یو اے ای:نشیب و فراز سے بھرپور اڑتیس برس

- مصنف, راجر ہارڈی
- عہدہ, ماہرِ امور مشرقِ وسطٰی، بی بی سی
ایک ایسے وقت میں جب متحدہ عرب امارات اپنی اڑتیسویں سالگرہ منا رہا ہے دبئی کے اقتصادی بحران نے عرب دنیا کی اس سب سے نمایاں کامیابی کی کہانی کو داغدار کر دیا ہے۔
قریباً چار عشروں تک متحدہ عرب امارات کا قائم رہنا بذاتِ خود ایک اہم کامیابی ہے۔ جب دو دسمبر سنہ 1971 کو متحدہ عرب امارات کا وجود عمل میں آیا تھا تو اس کے مستقبل کے بارے میں بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات موجود تھے۔
متحدہ عرب امارات کے قیام سے کچھ برس قبل برطانیہ کی جانب سے خلیج سے انخلاء کے اعلان سے ان عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ.ان ریاستوں کے حکمرانوں نے برطانوی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود برطانوی فوج کے اخراجات برداشت کرنے کو تیار ہیں لیکن برطانوی حکومت نے یہ پیشکش قبول نہیں کی تھی۔
خلیج کا علاقہ ڈیڑھ سو برس تک برطانوی عملداری میں رہا تھا۔ برطانیہ نے مقامی حکمرانوں کو ان کے ایران، عراق اور سعودی عرب جیسے طاقتور ہمسایوں کی دست برد سے محفوظ رکھا تھا۔ لیکن اب وہ خود اپنے ذمہ دار تھے۔

لیکن زیادہ تر مبصرین یہی کہیں گے کہ متحدہ عرب امارات کا بطور فیڈریشن قائم رہنا اور جدت کی جانب اس کا تیزرفتار سفر قابلِ ذکر ہے۔ وہ ریاستیں جو زمانۂ تیل سے قبل موتیوں کی تجارت اور ماہی گیری پر انحصار کرتی تھیں آج وہاں بہترین سکول، ہسپتال، ہوائی اڈے، ہوٹل اور فلک بوس رہائشی عمارتیں موجود ہیں۔ دو نسل قبل پائی جانے والی مشکلات، بیماریاں اور ناخواندگی آج ماضی کا فسانہ بن چکی ہیں۔ لیکن متحدہ عرب امارات نے اس ترقی کی بڑی قیمت بھی ادا کی ہے۔
ابتداء سے ہی متحدہ عرب امارات کا انحصار ابوظہبی کے تیل کی دولت اور جنوبی ایشیا سے آنے والے مزدوروں پر تھا۔.متحدہ عرب امارات کو متحد رکھنے میں اہم کردار ابوظہبی کے حکمران شیخ زید النہیان کی کرشماتی شخصیت کا اہم کردار تھا۔ شیخ زید تیس سال سے زیادہ عرصے تک متحدہ عرب امارات کے صدر بھی رہے۔ دبئی کو چونکہ ابوظہبی کے برعکس تیل کی دولت حاصل نہیں تھی اس لیے وہاں کے حکمران شیخ راشد المکتوم نے اسے ایک تجارتی مرکز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
شیخ زید اور شیخ راشد دو مختلف شخصیات تھے۔ ایک بدو قبیلے کے سربراہ تھے تو دوسرے تاجر شہزادے لیکن یہ طے ہے کہ وہ دونوں انتہائی قابل تھے۔ شیخ راشد کا انتقال سنہ 1990 میں ہوا لیکن ابوظہبی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر مزید چودہ برس زندہ رہے۔
ان کے ادوار میں بھی قدامت پسند ابوظہبی اور جدت پسند دبئی کے درمیان ایک تناؤ سا موجود رہا لیکن اس کے باوجود فیڈریشن قائم رہی۔ تاہم ان دونوں کے جانشینوں کے دور میں مشکلات قابو سے باہر ہو گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جدت کی جانب دبئی کے سفر میں تیزی آ گئی۔ دبئی نے ریاست میں ایک تعمیراتی انقلاب لانے کی کوشش کی اور اسے اس کے لیے بڑے قرضے بھی لینے پڑے لیکن وہ دنیا بھر کے کاروباری حضرات، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب رہا۔.خلیج پر گہری نظر رکھنے والے سابق برطانوی سفارت کار ایور لوکاس کے مطابق ’ہر کوئی ان مادی کامیابیوں پر رشک کر سکتا تھا لیکن یہ خیال بھی موجود تھا کہ یہ بلبلہ کبھی بھی پھٹ سکتا ہے‘۔
دبئی کا انحصار بڑی حد تک غیر ملکی تجربے اور مزدوروں پر ہو گیا۔ دبئی کی بیس لاکھ آبادی میں سے اسّی فیصد افراد تارکینِ وطن ہیں۔ دبئی میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں یہ خدشہ تھا کہ اس بین الاقوامی تشخص نے دبئی کی روح کو نقصان پہنچایا ہے لیکن زیادہ تر نوجوان عرب اور ایشیائی افراد کے لیے دبئی خوابوں کی دنیا تھا۔ ایک ایسی جگہ جہاں وہ اپنے عزائم پورے کر سکتے ہیں اور ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔
لیکن گزشتہ ایک برس کے دوران عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے یہ خواب ایک ڈراؤنی صورت اختیار کر رہا ہے۔ دبئی میں عمارتوں کی قیمتیں بہت کم ہوگئی ہیں اور بہت سے تعمیراتی منصوبے روک دیے گئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں اور ان میں عام مزدوروں سے لے کر بہتر عہدوں پر فائز افراد سبھی شامل ہیں۔

.اس سب کے باوجود کسی کو دبئی کے قرض بحران کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ اسی لیے جب نومبر کے آخر میں جب دبئی حکومت کی ملکیتی کمپنی دبئی ورلڈ نے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنے قریباً ساٹھ ارب ڈالر کے قرض کی قسط کی ادائیگی روک رہی ہے تو عالمی اقتصادی دنیا ہل کر رہ گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ابوظہبی اپنے ’فضول خرچ‘ ہمسایے کی مدد کرے گا۔ فنانشل ٹائمز کے راؤلا خلاف کے مطابق ’ابوظہبی ایک پھندے میں پھنس چکا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ابوظہبی اس بحران کے متحدہ عرب امارات کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں فکر مند ہے لیکن وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا‘۔
ان دونوں ریاستوں کا باہمی تناؤ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ابوظہبی کی مدد کی دبئی کو کچھ قیمت تو ادا کرنی پڑے گی۔ دبئی کے مکتوم خاندان کو جو اپنی ریاست کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں، اب شاید اپنے طریقے بدلنا ہوں گے اور اپنی مطلق العنانیت کو خدا حافظ کہنا ہوگا۔
اڑتیس برس تک متحدہ عرب امارات عرب دنیا کی واحد فیڈریشن کے طور پر قائم رہا ہے اور اس کے مستقبل پر سنجیدہ خدشات تو موجود نہیں ہیں لیکن شاید سنہ 2009 کو فیڈریشن کے جدت کی جانب تیز رفتار سفر میں ایک اہم موڑ کی صورت میں یاد رکھا جائے گا۔







