امریکی پارلیمنٹ کے احاطے میں جہاز کی لینڈنگ

 وہ تب تک جہاز سے باہر نہیں آیا جب تک پولیس والوں نے اسے کہا نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن وہ تب تک جہاز سے باہر نہیں آیا جب تک پولیس والوں نے اسے کہا نہیں

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل کی پولیس نے عمارت کے مغربی باغیچے میں چھوٹے جہاز ’جائروکاپٹر‘ لینڈ کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

امریکی اخبار ٹیمپا بے ٹائمز نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاز کا ڈگ ہیوز نامی پائلٹ فلوریڈا میں ڈاکیا ہے، اور اس کی اس حرکت کا مقصد کانگریس کے 533 ممبران کو ایک مزاحمتی خط پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ کیپیٹل ہل امریکی کانگریس کی عمارت کو کہتے ہیں اور اس کے اور وائٹ ہاؤس کے اردگرد کا فضائی علاقہ صرف سرکاری جہازوں کے لیے مختص ہے۔

کیپیٹل پولیس کے مطابق تفتیشی کارروائی جاری ہے اور ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ آس پاس کے علاقے کی بھی وقتی طور پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

جہاز کے لینڈ کرتے ہی ایمرجنسی گاڑیوں اور بم کا کھوج لگانے والے ایک خودکار روبوٹ کو جہاز کے نزدیک بھیج دیا گیا۔

ہیوز اپنے گھر سے اپنے جہاز کے ہمراہ گذشتہ ہفتے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

’اگر وہ کیپیٹل عمارت سے تھوڑا اور نزدیک جاتا تو حکام اس کے جہاز کو مار گرانے کے لیے تیار تھے‘

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن’اگر وہ کیپیٹل عمارت سے تھوڑا اور نزدیک جاتا تو حکام اس کے جہاز کو مار گرانے کے لیے تیار تھے‘

انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا: ’میں نے حکام کو بتا دیا ہے کہ نہ میرے عزائم غلط تھے اور نہ ہی اس میں تشدد کا کا کوئی امکان تھا، کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں صرف ڈاک دینے جا رہا ہوں۔‘

ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ مائیکل میک کول نے کہا کہ اگر جہاز کانگریس کی عمارت سے تھوڑا اور نزدیک جاتا تو حکام اسے مار گرانے کے لیے تیار تھے۔

جائے وقوعہ پر موجود ایک سیاح نے بتایا کہ جہاز زمین سے 30 فٹ کی اونچائی پر تھا۔ ایک اور سیاح، شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ جان جیول نے بتایا کہ ’وہاں ایک پولیس افسر جہاز پر پہلے سے بندوق تانے کھڑا تھا۔ وہ اس وقت تک جہاز سے باہر نہیں آیا جب تک پولیس والوں نے اسے کہا نہیں، اور جب وہ ہاتھ اٹھائے باہر نکلا تو اسے تیزی سے قابو کر لیا گیا۔‘