امریکا کا ڈرون طیاروں کی فروخت کا اعلان

مبینہ طور پر امریکا کو اٹلی اور ترکی کی جانب سے ڈرون خریدنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمبینہ طور پر امریکا کو اٹلی اور ترکی کی جانب سے ڈرون خریدنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں

امریکا نے چند دوست اور اتحادی ممالک کو مسلح ڈرون طیاروں کی فروخت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صرف برطانیہ کو مسلح بغیر پائلٹ طیاروں کی خریداری کی اجازت دی گئی ہے جبکہ دیگر ممالک کے لیے غیر مسلح طیارے ہیں۔

ڈرونز خریدنے والے ممالک کو معاہدوں پر دستخط کرنا ہوں گے کہ وہ ان کا استعمال صرف فوجی مہمات کے دوران کریں اور امریکا ان معاہدوں کا جائزہ لےگا کہ وہ ان معاہدوں کی تعمیل کس قدر کر رہے ہیں۔

حالیہ اعلان چین کے اپنے بغیر پائلٹ پروگرام کے پیش نظر سامنے آیا ہے جس کے مطابق چین کم از کم نو ممالک کو بغیر پائلٹ طیارے برآمد کرے گا۔

نئی جاری ہونے والی پالیسی میں امریکی محکمۂ خارجہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کہ کن ممالک کو مسلح ڈرونز فروخت کیے جا سکتے ہیں، تاہم امریکی میڈیا کو سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ اٹلی اور ترکی کی جانب سے گذشتہ درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

امریکی اراکین پالیمان اس وقت متحدہ عرب امارات کو بھی غیرمسلح ڈرون طیارے فروخت کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

لیکن مخصوص ڈرونز، جن کی رینج 300 کلومیٹر (186میل) ہے اور وہ 500 کلوگرام (1100پائونڈ) وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کی برآمد پر تاحال پابندی برقرار ہے ماسوائے انتہائی غیرمعمولی صورتحال کے۔

مسلح ڈرونز امریکا میں امریکا کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے تناظر میں انتہائی اہم رہے ہیں، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کو نشانہ بنانے سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے بھی ان پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

پاکستان آرمی کے افسران چین میں تیار کردہ ڈرون طیارے دیکھ رہے ہیں۔ چین نے متعدد ممالک کو ڈرونز کی فروخت کی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان آرمی کے افسران چین میں تیار کردہ ڈرون طیارے دیکھ رہے ہیں۔ چین نے متعدد ممالک کو ڈرونز کی فروخت کی ہے

پالیسی میں تبدیلی دو سالہ جائزے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ محکمۂ خارجہ کے مطابق وہ مسلح ڈرونز کی فروخت اجازت اس امر کی یقین دہانی کے لیے دے رہا ہے کہ ان کا استعمال ذمہ داری اور قانونی طور پر کیا جائے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ’ٹیکنالوجی یہیں رہے گی۔ یہ ہمارے فائدے کے لیے ہے کہ ہمارے مخصوص اتحادی اور ساتھی مناسب طور پر مسلح ہوں۔‘

لیکن امریکی کانگریس میں کچھ اراکین نے قریبی اتحادیوں کو بھی ڈرونز کی فروخت پر تنقید کا نشانہ بنایا اور وہاں انٹیلیجنس کی مہارت اور انسانی حقوق کی حالت زار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

اور دفاعی حکام کو ڈرونز استعمال کرنے کے حوالے سے فوجی کمانڈروں کی درخواستوں پر عمل کرنے میں دشواری پیش آئی اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے لیے ڈرونز کی منتقلی میں بھی مشکل کا سامنا کیا۔

ٍڈرونز کی فروخت کے حوالے سے ایک معاہدہ ہو سکتا ہے جس کے مطابق ڈرونز خریدنے والا اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے مطابق کرے اور اس طیارے کا ’غیرقانونی نگرانی یا شہری آبادیوں کے خلاف غیرقانونی طاقت کے استعمال‘ کے لیے نہیں کرے گا۔