سنگاپور میں سات روزہ قومی سوگ کا آغاز

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سنگاپور کے بانی لی کوان یئو کی وفات کے بعد ملک میں سات روزہ قومی سوگ کا آغاز ہو گیا ہے۔
91 سالہ لی کوان یئو پیر کے روز انتقال کر گئے تھے۔ وہ31 برس تک ملک کے وزیرِ اعظم رہے اور سنگاپور کو ایک چھوٹی سی بندرگاہ سے ایک امیر ملک میں تبدیل کردیا
سنگاپور کے بانی کی وفات کے بعد دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
امریکی صدر اوباما کا کہنا ہے کہ لی کوان یئو ایک بڑی شخصیت تھے جن سے عالمی رہنما مشورے لیتے تھے۔
چینی صدر ژئی جن پنگ کا کہنا ہے کہ لی کوان یئو انتہائی قابلِ احترام تزو بر کار اور سیاتدان تھے اور روسی صدر نے انھیں دنیائے سیاست کا بزرگ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ لی کوان یئو کو سنگاپور کی خوشحالی کا معمار بھی کہا جاتا تھا تاہم ساتھ ہی ساتھ ان کے حکومت کرنے کے سخت گیر طریقوں پر بھی تنقید کی جاتی رہی۔
ان کے دور میں جہاں آزادی اظہار پر پابندیاں رہیں وہیں ان کے سیاسی مخالفین کو عدالتی کارروائیوں کا ہدف بنایا گیا۔
لی کوان کے انتقال کا اعلان ان کے بیٹے اور سنگاپور کے موجودہ وزیرِ اعظم لی سیان لونگ کے پریس سیکریٹری کی جانب سے کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’سنگاپور کے بانی وزیرِ اعظم لی کوان یئو کے انتقال کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم انتہائی افسردہ ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ لی کوان نے پیر کو مقامی وقت کے مطابق صبح تین بج کر 18 منٹ پر سنگاپور جنرل ہسپتال میں اپنی آخری سانسیں لیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنگاپور کی حکومت نے لی کوان کے انتقال پر سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
لی کوان نے سنگاپور میں پیپلز ایکشن پارٹی کی بنیاد رکھی تھی جو 1959 سے ملک میں حکمران ہے۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل وکیل لی کوان ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بنے اور سنگاپور کے پہلے ملائیشیا میں انضمام اور پھر اس سے علیحدگی کے دور میں بھی ملک کی قیادت کی۔
1965 میں ملائیشیا سے سنگاپور کی علیحدگی کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے ایک کثیر النسلی قوم کی تشکیل کا عزم ظاہر کیا تھا۔
تاہم قدرتی وسائل سے محروم سنگاپور کو اس وقت ایک نئے اقتصادی ماڈل کی ضرورت تھی۔
اس کے لیے سب سے پہلے لی کوان نے تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین کی ایسی کھیپ تیار ہوئی جو روانی سے انگریزی بول سکتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کے بعد انھوں نے ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے کے اقدامات کیے اور سنگاپور کو ایک ’مینیوفیکچرنا ہب‘ میں تبدیل کر دیا۔
سنگاپور اس کے علاوہ تیل صاف کرنے کی صنعت کا مرکز بھی بنا جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے بھرے اور پھر دنیا نے اس چھوٹے سے ملک کو دنیا کا ایک بڑا مالیاتی مرکز بنتے دیکھا۔
لیکن قوم کی اس ترقی کے لیے لی کوان نے ملک میں سخت گیر پالیسیاں اپنائیں اور پریس کو اپنے کنٹرول میں رکھا۔
یہ پابندیاں آج بھی موجود ہیں اور 2014 میں پریس کی آزادی کے حوالے سے رپورٹرز ود آؤٹ بورڈرز کی فہرست میں سنگاپور کا درجہ 150 تھا جو کہ برما اور زمبابوے جیسے ممالک سے بھی نیچے ہے۔







