31 برس تک سنگاپور کے وزیراعظم رہنے والے لی کوان یئو کی زندگی: تصاویر میں
،تصویر کا کیپشنلی کوان یئو کو جدید سنگاپور کا بانی کہا جاتا ہے اور اس شہری ریاست کی سیاست پانچ دہائیوں تک ان کے گرد ہی گھومتی رہی۔
،تصویر کا کیپشنلی کوان 16 ستمبر 1923 کو سنگاپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین چینی تارکینِ وطن کی نسل سے تھے۔ وہ نیل روڈ کے اس مکان میں بھی کچھ عرصہ رہائش پذیر رہے۔ لی کی پیدائش کے وقت سنگاپور برطانوی حکومت کا حصہ تھا اور یوں وہ ایک برطانوی شہری کے طور پر پیدا ہوئے اور 30 برس کی عمر تک وہ صرف انگریزی ہی بول سکتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنجنگِ عظیم دوئم کی وجہ سے لی کوان اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان روانہ نہ ہو سکے۔ جنگ کے دوران وہ جاپانی زبان کے مترجم کے طور پر کام کرتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنجنگ کے خاتمے کے بعد لی نے اپنے پڑھائی دوبارہ شروع کی اور پہلے کیمبرج یونیورسٹی اور پھر لندن سکول آف اکنامکس میں زیرِ تعلیم رہے۔ انگلینڈ میں قیام کے دوران ہی انھوں نے کوا گیوک چو سے شادی بھی کی۔
،تصویر کا کیپشنلی کوان نے 1954 میں سنگاپور میں پیپلز ایکشن پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے جنرل سیکریٹری بنے۔
،تصویر کا کیپشن36 سال کی عمر میں لی کوان یئو خودمختار سنگاپور کے پہلے وزیرِ اعظم بنے اور اگلی تین دہائیوں تک اس عہدے پر فائز رہے۔
،تصویر کا کیپشنپیپلز ایکشن پارٹی نے سنگاپور کے برطانیہ سے علیحدہ ہو کر ملائے فیڈریشن کا حصہ بننے کے لیے مہم چلائی اور 16 ستمبر 1963 کو لی نے 144 سالہ برطانوی راج کے خاتمے اور ملائے فیڈریشن کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔
،تصویر کا کیپشنتاہم سنگاپور کی اکثریتی چینی آبادی اور ملائی آبادی میں تناؤ بڑھتا رہا۔ لی کی اپیل کے باوجود ریاست میں فسادات ہوتے رہے جن میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشن9 اگست 1965 کو آبدیدہ لی نے سنگاپور کی ملائے فیڈریشن سے علیحدگی کا اعلان کیا کیونکہ نسلی تناؤ کی وجہ سے فیڈریشن کا اپنا وجود خطرے میں پڑا رہا تھا۔
،تصویر کا کیپشناگلے 31 برس میں لی نے سنگاپور کو ایک متروک کالونی سے دنیا کی امیر ترین قوموں میں سے ایک میں تبدیل کر دیا۔
،تصویر کا کیپشنلی کبھی بھی اس تنقید سے پریشان نہ ہوئے کہ سنگاپور میں ریاست ہر فرد کی نجی زندگی میں بہت زیادہ مداخلت کرتی ہے۔
،تصویر کا کیپشن1981 میں جوشوا بینجمن نے سنگاپور میں لی کی اپوزیشن میں رہتے ہوئے پارلیمان میں پہلی نشست جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
،تصویر کا کیپشنلی دنیا بھر کے رہنماؤں کے لیے تجربے کی کھلی کتاب تھے جس سے وہ مستفید بھی ہوتے رہے۔ 2009 میں ملاقات کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے انھیں 20ویں اور 21ویں صدی میں ایشیا کی لیجنڈری شخصیت قرار دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشناپنی اہلیہ کوا چو کی خرابی صحت کی وجہ سے لی کی سرگرمیوں پر اثر پڑا۔ 2010 میں ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ان پر اہلیہ کی دیکھ بھال کا دباؤ کسی بھی سیاسی دباؤ سے زیادہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنلی کی اہلیہ 2010 میں ہی چل بسیں اور ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ کوا کے انتقال کے بعد لی نے کہا کہ وہ اب ایک مختلف شخص ہوں گے جس کی زندگی بدل جائے گی۔
،تصویر کا کیپشنلی کی سیاست میں دلچسپی ان کی وفات تک جاری رہی۔ اگرچہ وہ 1990 میں وزارتِ عظمیٰ سے الگ ہوگئے تھے لیکن وہ سینیئر وزیر رہے اور ہر اہم معاملے میں ان کی رائے لی جاتی تھی۔
،تصویر کا کیپشن90 برس کی عمر میں وہ سنگاپور کے قومی دن کی تقریبات میں دکھائی دیے تھے۔
،تصویر کا کیپشنسنگاپور کو ایک چھوٹی سی بندرگاہ سے ایک امیر ملک بنانے والے لی کوان یئو 91 برس کی عمر میں 23 مارچ 2015 کو انتقال کر گئے۔