امریکہ میں بےگھر شخص پولیس کے ہاتھوں ہلاک

لاس انجلیس
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں سیاہ فام افراد کے پولیس کے ہاتھوں قتل پر کافی تنقید کی جا رہی ہے

امریکہ میں منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلیس کے مرکز میں پولیس نے ایک جھڑپ میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لاس اینجلیس شہر کے ’سکڈرو‘ علاقے میں پولیس اور ہلاک ہونے والے شخص کے درمیان پرتشدد لڑائی جاری تھی۔

پولیس کا کہنا تھا اس جھڑپ میں ملوث تین پولیس اہلکاروں نے اس وقت گولی چلائی جب ہلاک ہونے والے شخص نے ایک پولیس اہلکار سے اس کی بندوق چھیننے کی کوشش کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص ’افریقہ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور دماغی علاج کے بعد بے گھر تھا اور سڑکوں پر رہ رہا تھا۔

لاس اینجلیس کی پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس ڈکیتی کی اطلاع ملنے کے بعد وہاں گئی تھی اور وہ اس شخص کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس شخص نے لڑائی جاری رکھی۔

پولیس کمانڈر اینڈریو سمتھ کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے کوئی اور بندوق برآمد نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس فرگوسن کے علاقے میں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد ہفتوں احتجاج ہوئے اور امریکہ پر نسل پرستی سے پاک نہ ہونے کے الزامات لگے۔

اس حالیہ ہلاکت کے واقعے کے بعد ٹوئٹر پر اس پر تنقید جاری ہے۔

ہلاک شدہ شخص کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ بے گھر تھا اور دس برس تک دماغی علاج کے ہسپتال میں زیر علاج رہا تھا۔ جو لوگ افریقہ کو جانتے تھے ان کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بے چین ضرور تھا لیکن پرتشدد نہیں تھا۔

لاس اینجلیس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایلیسٹر لیتھ ہیڈ کا کہنا ہے کہ ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہے کہ آخر ہوا کیا تھا۔

لاس انجیلس

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ مقتول شخص سے بندوق چھیننے کی کوشش میں گولی چلی

ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سیاہ فام شخص دن کی روشنی میں سڑک کے کنارے لگے اپنے ٹینٹ کے قریب چار پولیس افسران کو مکے مار رہا ہے۔ اپنے ساتھیوں کو پٹتا دیکھ کر دو اور پولیس اہلکار وہاں آتے ہیں۔ جیسے ہی پولیس والے اس شخص کو زمین پر گراتے ہیں ایک عورت پولیس کی چھڑی کو اٹھاتی ہے اور ایک آواز سنائی دیتی ہے ’مجھے میری چھڑی دو، مجھے میری چھڑی دو‘۔ بندوق سے چار گولیاں چلنے کے بعد ایک اور آواز سنائی دیتی ہے ’بندوق چھوڑ دو‘۔

پولیس اہلکار مشتبہ شخص کی زمین پر پڑی لاش سے پیچھے ہٹتے ہیں، 13 سیکنڈ تک کوئی لاش کے قریب نہیں جاتا ہے اور تب تک پولیس کی اضافی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہے۔

گولی چلنے کے بعد ایک آواز سنائی دیتی ہے ’میں اس گھناؤنے واقعے کو ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں۔ ان لوگوں نے اس شخص ابھی یہاں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔‘

جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس کا نام سکڈ رو ہے اور یہاں بڑی تعداد میں بے گھر افراد مقیم ہیں۔ لاس اینجلیس کی چیمبر آف کامرس کے مطابق یہاں کی آبادی آٹھ ہزار سے گیارہ ہزار افراد پر مشتمل ہے اور بیشتر آبادی سیاہ فام ہے۔ یہاں کے بے گھر افراد کی تعداد ڈھائی ہزار ہے۔

کمانڈر سمتھ کا کہنا ہے کہ ایک سارجنٹ سمیت تین پولیس اہلکاروں نے ایک پولیس افسر کی زمین سے بندوق اٹھانے کے لیے ہونے والی جدوجہد کے دوران گولیاں چلائی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس ویڈیو کا علم ہے جو کسی نے اس واقعے کے دوران بنائی ہے اور اس ویڈیو کی آواز اور تصاویر کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ آخر ہوا کیا تھا۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ ویڈیو پریشان کن ہے ۔ کسی بھی انسان کا مرنا ایک پریشان کن بات ہے۔ یہ ایک المیہ ہے۔‘

اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہلاکت میں ملوث تینوں پولیس اہلکاروں کو واقعے کی تفتیش مکمل ہونے تک چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے پولیس کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص چار پانچ مہینوں سے سڑکوں پر رہ رہا تھا۔

قریب کے اپارٹمنٹس میں رہنے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص نے حال ہی میں اسے بتایا تھا کہ وہ دس سال دماغی ہسپتال میں گزار کر آیا ہے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ افریقہ تشدد کرنے والا شخص نہیں تھا۔