اقوام متحدہ کو امریکی جیوری کے فیصلوں پر’تحفظات‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ماہرین نے امریکہ میں گرینڈ جیوری کی جانب سے دو سیام فام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں دو پولیس اہلکاروں پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے پر’مناسب تحفظات‘ کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ وسیع بریت‘ کا حصہ ہے جس پر اقلیتوں کو تشویش ہے۔
امریکی ریاست نیویارک میں ایک اور سیاہ فام شہری ایرک گارنر کی ہلاکت پر پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے خلاف دوسرے روز بھی مظاہرے ہوئے۔
اقوام متحدہ میں اقلیتوں کے حقوق کی خصوصی ماہر ریٹا ازسک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ مجھے گرینڈ جیوری کے فیصلوں پر تشویش ہے اور بظاہر یہ دونوں واقعات کے موجود شواہد کے متضاد ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ مقدمےکی کارروائی کے ذریعے یقینی ہو گا کہ شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
’بریت سے متعلق فیصلوں پر کئی جائز تحفظات پیدا ہوتے ہیں جب ان متاثرین پر بے حد طاقت کا استمعال کیا جائے جن کا تعلق اقلیتی برادریوں سے تھا یا وہ افریقی نژاد امریکی شہری تھے۔‘
اقوام متحدہ میں افریقہ تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق انسانی کی کمیٹی کی سربراہ میرللے فینن نے کہا ہے کہ ’حالیہ واقعات نے پہلے سے موجود تحفظات میں اضافہ کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا کہ افریقی نژاد شہریوں کو طویل عرصے نسلی امتیاز کے رجحان بلخصوص انصاف تک رسائی اور پولیس کے غیر امتیازی سکول کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے امریکی جیوری کے فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ کے مختلف شہروں میں سیاہ فام امریکی شہری ایرک گارنر کی ہلاکت کے واقعے میں پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔
گرینڈ جیوری کی جانب سے پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے بعد امریکہ کے محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ ایرک گارنر کی موت کے کیس کی تحقیقات کی جائیں گی۔
امریکی ریاست نیویارک میں گرینڈ جیوری کے فیصلے کے خلاف دوسرے روز بھی مظاہرے ہوئے۔
نیویارک اور دیگر شہروں میں ہزاروں مظاہرین نے سٹرکوں پر دھرنے دیے جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اب اس کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔
ادھر نیویارک کے گورنر بل ڈی بلازیو نے کہا ہے کہ پولیس کے 22,000 اہلکاروں کو شہر کو پرسکون رکھنے اورگرفتاریاں کرنے کے لیے تربیت دی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کے جسموں کے ساتھ کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے نیویارک کے گورنر کے کام کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ متعدد امریکی اس وقت ناانصافی محسوس کرتے ہیں جب ہمارے پروفیشنل تصورات اور روزمرہ قانون کے نفاذ کے درمیان فرق آتا ہے۔
خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل ریاست مزوری میں جیوری کی جانب سے ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت پر پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا تھا۔
نیویارک میں جمعرات کی رات مظاہرین بروکلن پل پر تابوت لے کر آئے اور انھوں نے گروپوں کی صورت میں مین ہٹن بھر میں مارچ کیا۔
مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’نسل پرستی مار دیتی ہے‘ اور ’اسے آج بند ہو جانا چاہیے‘ کے نعرے درج تھے۔
مظاہرے میں شامل ایک شخص جیسن پولاک کا کہنا تھا: ’لوگ اس ملک میں نسل پرستی کے نظام کی خرابیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم سڑکوں پر یہ کہنے کے لیے باہر نکل آئے ہیں کہ آیا سیاہ فاموں کی زندگیوں کی کوئی وقعت ہے بھی یا نہیں۔‘
اس موقعے پر پولیس نے دھرنوں کے شرکا سے کہا کہ اگر انھوں نے دھرنے ختم نہ کیے تو انھیں گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے قبل پولیس نے بدھ کو 80 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔
امریکہ کے شہروں شگاگو، واشنگٹن، ڈینور اور بوسٹن میں بھی اس واقعے کے خلاف چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے واشنگٹن میں 13 دسمبر کو احتجاج کی کال دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پولیس نے 43 سالہ ایرک گارنر کو 17 جولائی کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں روکا تھا۔
سیاہ فام ایرک گارنر کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لیے جانے کی ویڈیوکے خلاف عوام سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں ایرک گارنر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا‘ جس کے بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔
ایرک گارنر کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق گارنر کی موت ان کا گلا دبانے کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی۔







