سیاہ فام شہری کی ہلاکت، فیصلہ پھرگرینڈ جیوری کرے گی

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں حال ہی میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے دو مقدمات میں گرینڈ جیوری کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بےقصور قرار دیے جانے کے بعد اب ایک اور گرینڈ جیوری سے ایسے ہی ایک اور مقدمے کا فیصلہ کرنے کو کہا جائے گا۔
ادھر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ماہرین نے امریکہ میں گرینڈ جیوری کی جانب سے دو سیام فام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں دو پولیس اہلکاروں پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے پر’مناسب تحفظات‘ کا اظہارکیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ’وسیع بریت‘ کا حصہ ہے جس پر اقلیتوں کو تشویش ہے۔
تازہ ترین مقدمہ نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک نہتے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کا ہے جسے ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اکائے گرلی نامی سیاہ فام امریکی کو گذشتہ ہفتے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی رہائشی عمارت کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے۔
جیوری سے اس مقدمے کا فیصلہ کروانے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک اور گرینڈ جیوری نے ایک دوسرے معاملے میں نیویارک پولیس کے ایک اہلکار پر ایک اور سیاہ فام شہری ایرک گارنر کے قتل کا مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس فیصلے کے خلاف امریکہ میں ملک گیر سطح پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔
امریکہ میں پہلے سے ہی ریاست مزوری کے شہر فرگوسن میں ایک سیاہ فام شہری مائیکل براؤن کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے پولیس افسر کی بریت کے سبب ’نسلی بد امنی‘ پھیلی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو دنوں کے مظاہروں کے بعد جمعے کو نیویارک میں 28 سالہ اکائے گرلی کی یاد میں تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ ان کی تدفین سنیچر کو ہونے والی ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں ان کی آبدیدہ ماں نے انصاف کا مطالبہ کیا۔
ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود بی کے نیشن ایڈوکیسی گروپ کے صدر کیون پاول نے اس ہلاکت کو ’غیرقانونی ڈھنگ سے ہلاک کیے جانے کا سلسلہ‘ قرار دیا۔
گرینڈ جیوری کا اعلان کرتے ہوئے برکلین کے ضلعی اٹارنی کین تھامسن نے کہا کہ اس معاملے میں مکمل اور منصفانہ جانچ کرانا اہمیت کا حامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ میں جیوری کا قیام اس لیے عمل میں لایا جاتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ آیا کوئی معاملہ عدالت میں لے جانے لائق ہے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
پولیس کا کہنا ہے کہ مسٹر گرلی اور ان کی گرل فرینڈ نے اندھیری سیڑھیوں میں اپنا دروازہ کھولا تھااور ایک ناتجربہ کار پولیس افسر نے ان پر گولی چلا دی تھی۔
نیویارک کے پولیس کمشنر ولیم بریٹن نے اسے ایک حادثہ قرار دیا ہے جبکہ طبی جانچ کرنے والوں نے اسے انسانی قتل کا معاملہ نہیں تسلیم کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اس سے قبل امریکی گرانڈ جیوری کے بارے میں ’جائز تشویش‘ ظاہر کی تھی کیونکہ اس نے دو پولیس اہلکاروں پر ایرک گارنر اور مائیکل براؤن کے معاملے مقدمہ قائم نہیں کیا تھا۔
دوسری جانب نیویارک کے گورنر بل ڈی بلازیو نے کہا ہے کہ پولیس کے 22,000 اہلکاروں کو شہر کو پرسکون رکھنے اورگرفتاریاں کرنے کے لیے تربیت دی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کے جسموں کے ساتھ کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔
امریکی صدر براک اوباما نے نیویارک کے گورنر کے کام کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ متعدد امریکی اس وقت ناانصافی محسوس کرتے ہیں جب ہمارے پروفیشنل تصورات اور روزمرہ قانون کے نفاذ کے درمیان فرق آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایرک براؤن کے معاملے پر مظاہرہ کرنے والوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’نسل پرستی مار دیتی ہے‘ اور ’اسے آج بند ہو جانا چاہیے‘ کے نعرے درج تھے۔
مظاہرے میں شامل ایک شخص جیسن پولاک کا کہنا تھا: ’لوگ اس ملک میں نسل پرستی کے نظام کی خرابیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم سڑکوں پر یہ کہنے کے لیے باہر نکل آئے ہیں کہ آیا سیاہ فاموں کی زندگیوں کی کوئی وقعت ہے بھی یا نہیں۔‘
اس موقعے پر پولیس نے دھرنوں کے شرکا سے کہا کہ اگر انھوں نے دھرنے ختم نہ کیے تو انھیں گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے قبل پولیس نے بدھ کو 80 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پولیس نے 43 سالہ ایرک گارنر کو 17 جولائی کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں روکا تھا۔
سیاہ فام ایرک گارنر کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لیے جانے کی ویڈیوکے خلاف عوام سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں ایرک گارنر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا‘ جس کے بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔
ایرک گارنر کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق گارنر کی موت ان کا گلا دبانے کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی۔







