برطانوی انتخابات میں مسلم ووٹ ’بہت اہم‘ ہوں گے

منشور کے اجرا کے موقعے پر برطانوی پارلیمان کے اراکین سمیت مسلم کمیونٹی کے نمائندے بھی دارالعمرا میں موجود تھے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمنشور کے اجرا کے موقعے پر برطانوی پارلیمان کے اراکین سمیت مسلم کمیونٹی کے نمائندے بھی دارالعمرا میں موجود تھے
    • مصنف, اطہر کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، لندن

برطانوی دارالامرا میں مسلمانوں کی ایک تنظیم کے منشور کے اجراء کے موقعے پر لارڈ نذیر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں 30 لاکھ مسلمان بستے ہیں جو کہ آئندہ عام انتخابات میں کم از کم 40 نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم ’انسٹی ٹیوٹ فار مسلم کمیونٹی ڈیویلپمنٹ‘ نے برطانوی انتخابات سے قبل اپنے موجوزہ منشور کا اعلان کیا ہے جس میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے علاوہ ایسی برطانوی خارجہ پالیسی کی حمایت کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے جو اخلاقی بنیادوں پر استوار ہو اور جس میں انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے۔

یہ منشور جسے ’مسلم مینیفیسٹو‘ کا نام دیا گیا ہے کے اجرا کے موقعے پر برطانوی پارلیمان کے اراکین سمیت مسلم کمیونٹی کے نمائندے بھی دارالامرا میں موجود تھے۔

اس موقعے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لارڈ نذیر کا کہنا تھا کہ ’اگلے انتخابات میں مسلم ووٹ بہت اہم ہے، وہ 40 سیٹیں جن کا فیصلہ مسلمانوں کے ووٹوں سے ہوگا اگلی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔‘

لارڈ نذیر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنلارڈ نذیر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے

مسلم مینیفیسٹوکے متعلق لارڈ نذیر کا کہنا تھا کہ ’ اسلام مخالف سوچ میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس طرح کے مطالبات سے ہم سیاستدانوں کے سامنے اپنے مسائل اجاگر کریں اور ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کریں۔ اگر ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو ان میں مزید اضافہ ہو گا اور خطرہ ہے کہ مسلمانوں کے بھی وہی حالات ہو جائیں جو دوسری جنگِ عظیم سے قبل یہودیوں کے تھے۔‘

برطانوی دارالامرا کے پاکستانی نژاد رکن لارڈ قربان کا کہنا تھا کہ ’ یہ منشور برطانوی مسلمانوں کو درپیش چلینجز حل کرنے کے لیے اہم دستاویز ہے۔‘

لارڈ قربان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں اس چیز کا احساس ہو گیا ہے کہ برطانیہ ہی اب ہمارا ملک ہے، ہمارا جینا مرنا اسی ملک میں ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے مسائل کے مستقل حل کے لیے آواز اٹھائیں اور الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔‘

بیرنس سعیدہ وراثی نے مسلم منشور کے اجرا کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’ اگر ایک کمیونٹی اپنے مسائل سیاستدانوں کے سامنے نہیں رکھی گی تو ان کے حل کی ہم کیسے امید کر سکتے ہیں۔‘

منشور کے اجرا کے موقعے پر موجود لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ’اینڈی سلاٹر‘ اور لبرل ڈیموکریٹ کے رکن پارلیمنٹ ’ڈیویڈ وارڈ‘ نے اسے ایک اہم اور اچھی پیش رفت قرار دیا۔

دوسری جانب دارالامرا کی ایک مسلم رکن بیرنس ’ پولا الدین‘ کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ میں اس سے متفق نہیں ہوں، ہمیں مسلمانوں کے بجائے پوری قوم کے مسائل کے حل کی بات کرنی چاہیے، مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیے اس طرح کی چیزیں برطانوی معاشرے میں باعثِ تفریق بنتی ہیں۔‘

انسٹی ٹیوٹ فار مسلم کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے ترجمان محسن عباس کا کہنا تھا کہ ہمیں اس چیز کا بخوبی اندازہ ہے کہ برطانیہ میں مختلف رنگ ونسل اور فرقوں کے مسلمان آباد ہیں اور ان کو مختلف مسائل درپیش ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جو مشترکہ ہیں جن کے حل کے لیے ہم نے مسلم مینیفیسٹو کا اجرا کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ موجوزہ منشور ہے عوامی ردِعمل سامنے آنے کے بعد اپریل میں حتمی منشور کا اجرا کیا جائے گا۔