’اسلام کو کیسے برطانوی تشخص کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کئی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کے باوجود برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس خط کا دفاع کیا ہے جس میں ملک کے سینیئر مسلمان رہنماؤں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ اسلام کو کیسے ’برطانوی تشخص کا حصہ‘ بنایا جا سکتا ہے۔
مسلم کونسل آف بریٹن کا کہنا تھا کہ اس خط میں ’انتہائی دائیں بازو‘ کی اس سوچ کی غمازی ہوتی ہے کہ اسلام اور مسلمان کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جو برطانوی معاشرے سے میل نہیں کھاتی۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برادریوں میں ہم آہنگی کے وزیر (کمیونیٹیز سیکریٹری) ایرک پکلز نے مسلمان رہنماؤں کو جو خط لکھا ہے وہ ’ مناسب، معقول اور معتدل‘ ہے۔
کمیونیٹیز کے وزیر نے یہ خط پیرس میں حملوں کے بعد برطانیہ کے ایک ہزار مسلمان رہنماؤں اور مساجد کے اماموں کو لکھا تھا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مسٹر پِکلز یہ خط لکھنے میں ’بالکل حق بجانب‘ تھے جس میں انھوں نے مسلمان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسندی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔
وزیر اعظم کے بقول ’میں نے یہ خط پڑھا ہے، اور جو بھی یہ خط پڑھتا ہے اسے صاف دکھائی دے گا کے مذکورہ وزیر کیا کہنا چاہتے ہیں۔ وزیر کا کہنا ہے کہ برطانوی مسلمان ہمارے ملک میں عظیم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ کہ دہشت گردوں کے حملوں سے مسلمانوں کے مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ چند لوگ جنھیں شدت پسند بنا کر گمراہ کر دیا گیا ہے، وہ لوگ مسلمانوں کے مذہب کو استعمال کر رہے ہیں۔‘
’اگر کوئی شخص اس خط کو پڑھتا ہے اور اسے مسئلہ ہوتا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ اس شخص کے ساتھ واقعی کوئی مسئلہ ہے۔‘
کمیونیٹیز کے نائب وزیر لارڈ احمد نے بھی اس خط پر دستخط کیے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ مسلم کونسل آف بریٹن کا رد عمل ’مایوس کن‘ ہے اوراس خط میں جو نکتہ اٹھایا گیا ہے، مسلم کونسل کو وہ سمجھ ہی نہیں آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بی بی سی ریڈیو فائیو سے بات کرتے ہوئے لارڈ طارق احمد کا کہنا تھا کہ ’اس خط میں صاف لکھا ہے کہ برطانوی اقدار اور مسلمانوں کی اقدار ایک ہی ہیں۔ یہ خط ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ملک کی تمام برادریوں کو اس بحث میں شامل کرنا چاہتی ہے کہ ہم شدت پسندی پر کیسے قابو پائیں اور کیسے مل جل کر کام کریں تا کہ ہم اپنے معاشرے سے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔‘
اپنے ملک پر فخر
ایک ہزار مسلمان رہنماؤں کے نام خط میں کمیونیٹیز سیکریٹری ایرک پکلز نے اس بات کا پرزور اظہار کیا تھا کہ جس طرح برطانیہ کے مسلمانوں نے پیرس میں حملوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے وہ ’قابل فخر‘ ہے۔ تاہم مسٹر پِکلز کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو اس سلسلے میں ’مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے لکھا تھا کہ: ’مذہبی رہنماؤں کی حیثیت سے ہمارے معاشرے میں آپ کا ایک خاص مقام ہے۔آپ کے ہاتھ میں بڑا قیمتی موقع ہے اور ایک اہم ذمہ داری بھی۔ آپ اس بات کی اچھی طرح وضاحت کر سکتے ہیں کہ اسلام کو مانتے ہوئے مسلمان کیسے برطانوی تشخص کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘
’میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب مل کر یہ دکھا سکتے ہیں کہ برطانوی اسلام کیا ہے۔ برطانوی مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے، اس بات کی وضاحت کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی ماضی میں کبھی نہیں تھی۔ برطانوی مسلمان کیسے اپنے مذہب اور اپنے ملک، دونوں پر فخر کر سکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ شدت پسندی کی کارروائیاں اسلام کی نمائندہ نہیں ہیں۔ ہمیں یہ چیز لوگوں کو دکھانا ہے۔‘
لیکن دوسری جانب مسلم کونسل آف بریٹن کے ڈپٹی سکریٹری جنرل ہارون خان کا کھنا تھا کہ ’ہم مسٹر ایرک پِکلز کو لکھیں گے کہ انھوں نے مسلمانوں سے جو مطالبہ کیا ہے وہ اس کی وٰضاحت کریں۔ ان کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ مسلمان ’اپنے کردار سے ظاہر کریں کہ وہ اور ان کا مذہب برطانوی تشخص کا حصہ کیسے بن سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’کیا انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں کی طرح مسٹر پِکلز بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جو انھیں برطانوی معاشرے سے جدا کرتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہارون خان کا کہنا تھا کہ انھیں خط کے مندرجات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن انھیں خط کے لب و لہجے اور اس کے پیچھے کارفرما سوچ سے اختلاف ضرور ہے۔
’مسلمان برادری کو یوں سب سے الگ کیوں کیا جا رہا ہے۔ یہ خط مساجد کے اماموں کو مشکل میں ڈال رہا ہے کیونکہ لوگ سمجھیں گے کہ حکومت ان کے اماموں کو بتا رہی ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔‘







