’یوسف جیل میں رہتے ہوئے بھی آزاد ہے‘

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, کلیئر ریڈ
- عہدہ, بی بی سی عربی سروس
’وہ اسے یوسف دہشت گرد کہہ کر بلاتے ہیں۔ اس لیے جب میں اس سے ملنے پولیس اسٹیشن گئی تو میں نے ان سے کہا کہ بتا دو انھیں کہ میں دہشت گرد کی ماں ہوں۔ میں اور کہہ بھی کیا سکتی تھی۔‘
یہ کہنا تھا اُمِّ یوسف کا۔ یوسف کی عمر 15 برس ہے۔ گذشتہ برس ستمبر میں اسے اپنی کلاس میں جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ تب سے قاہرہ کے جنوب میں واقع وہ اپنے آبائی قصبے فیوم کے پولیس اسٹیشن میں قید ہے۔
اس کے خلاف مقدمے کی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہوا۔
<link type="page"><caption> مصر میں مظاہروں پر پابندی’جابرانہ‘ ہے: انسانی حقوق تنظیمیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/11/131125_egypt_new_law_signed_mb" platform="highweb"/></link>
اُمِّ یوسف نہیں جانتیں کہ گرفتاری کے بعد چار دن تک یوسف کو کہاں رکھا گیا۔ ان کے بقول یوسف کو تفتیش کے دوران مارا پیٹا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔
یوسف پر ایک دھماکے کا الزام ہے اور پولیس حراست میں گزرے چار روز کے دوران اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا۔
وزراتِ داخلہ کے اہلکار جنرل ابو بکر عبدالکریم نے کہا ہے کہ مصر کے پولیس اسٹیشنز میں تشدد اور بجلی کے جھٹکے نہیں دیے جاتے۔
ان کا کہنا ہے ’اگر کبھی بھی ایسا ہوا تو پولیس اہلکاروں کا احتساب کیا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوسف کی وکیل یاسمین حسام الدین آخر کار گرفتاری کے پانچویں دن یوسف سے ملاقات کر پائیں اور اس وقت لی گئی تصویر میں یوسف کے چہرے پر خراشیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوسف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔
یوسف کے والد سنہ 2013 میں قاہرہ میں حکومت مخالف احتجاج کو پر تشدد انداز میں منتشر کیے جانے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔
اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ شاید اسی وجہ سے ان کے بیٹے کو بھی حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ پولیس سمجھتی ہے کہ ان کا بیٹا اپنے والد کا بدلہ لے گا۔
اُمّ یوسف کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے افراد اب کالعدم اخوان المسلیمین کے رکان نہیں ہیں۔ لیکن جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ہفتہ وار مظاہروں میں جاتی ہیں تو وہ ذرا توقف کے بعد بولیں ’درحقیقت ہاں میں جاتی ہوں۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گی کیونکہ میرے اندر ایک آگ ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے خاندان اور اس جیسے کئی لوگوں کو کوئی حق حاصل نہیں اور احتجاج وہ واحد راستہ ہیں جن سے حکومت ہماری طرف توجہ کرے گی۔ ‘

،تصویر کا ذریعہEPA
لیکن اب مصر میں احتجاج کرنا خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ سنہ 2013 میں بنائے گئے ایک قانون کے مطابق کسی بھی احتجاجی مظاہرے سے قبل وزارتِ داخلہ سے ایک معاہدہ کرنا ضروری ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج پراسرار پابندی ہے۔ اس قانون کے تحت سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور یا تو جیل میں ہیں یا ان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔
جنرل عبدالکریم کا کہنا ہے ’گو کہ یہ قانون پر تشدد مظاہرین کی جانب سے پیدا کردہ تشدد کے ماحول اور سکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاہم یہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ مظاہروں کا حق دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امن قائم رکھنے کے لیے حد بندی کر دیتا ہے۔‘
یاسمین حسام الدین قاہرہ میں اس قانون کے خلاف مظاہروں سے متعلق دو مقدمات میں وکلاِ صفائی کی ٹیم میں شامل ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’ان لوگوں پر الزام یہ ہے کہ انھوں نے مظاہروں کے لیے اجازت نہیں لی لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مظاہروں کے خلاف قانون کے خلاف کیے جانے والے مظاہرے کے لیے اجازت کیونکر لی جائے۔‘
ملزمان میں سے ایک یارا سلام ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی وکیل اور مصر میں ذاتی حقوق کے موضوع کی محقق ہیں۔
ان کی والدہ اور وکیل راویہ صدیق کا کہنا ہے کہ انھیں مظاہرے کے قریب سے پانی خریدتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں سخت کرنے کے لیے ایسا کیا ہے کیونکہ یارا سلام انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔
راویہ کا کہنا ہے کہ ’جس لمحے انھیں گرفتار کیا جا رہا تھا مجھے یاد ہے وہ تنہا تھیں اور یہ لمحہ مجھے بہت بے چین کرتا ہے۔‘
یارا اور ان کے ساتھ 22 ملزمان کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ اس کے بعد تین سال تک انھیں زیرِ نگرانی رکھا جائے گا۔
ایک اپیل کے بعد یہ سزا دو برس کر دی گئی ہے تاہم وکلا اب ایک اور اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مصر میں انصاف کا نظام انتہائی سست اور افسر شاہی ہے۔ یاسمین کے مطابق یہ چیز کئی برسوں سے مسئلے کی وجہ ہے۔
ملک میں کوئی چیز کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے اور کئی فیصلے انفرادی ججوں پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
بعض دفعہ صحافیوں کو عدالت کے اندر تک رسائی حاصل ہوتی ہے کیمرہ اور فون بھے لے جائے جا سکتے ہیں تاہم کئی دفعہ اس کی اجازت نہیں ہوتی۔
عموماً ملزمان کے خاندان والوں کو عدالت میں جانے کی ممانعت ہوتی ہے تاہم راویہ کے پاس ان کی بیٹی یارا کے مقدمے کے فیصلے کے روز پریس پاس تھا۔
ان کا کہنا ہے ’ان کا پنجرہ موٹی لوہے کی سلاخوں سے بنا تھا اس لیے انہیں اتنی آسانی سے دیکھا نہیں جا سکتا تھا۔ پھر میں نے اسے دیکھ لیا۔ وہ بہت پریشان تھی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میں اسے گلے لگانا چاہتی تھی تاکہ اسے پر سکون کر سکوں۔‘
’اس نے مجھ سے کہا ماں روئیں مت، پریشان نہ ہوں۔‘
’اس کی کچھ انگلیاں سلاخوں سے باہر آئیں میں نے انھیں چوما۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔‘
سنہ 2011 کے بعد صدر حسنی مبارک کا تحتہ الٹنے والی بغاوت کے بعد سیاسی کارکنوں کو احساس ہوا کے انھوں نے آزادی حاصل کر لی تھی اور اب پھر سے وہ آزادی چھین لی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
لیلی سیف کی چھوٹی بہن ثنا سیف بھی یارا سلام کے ساتھ ہی قید ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ملک میں اگلی بغاوت عدلیہ کے خلاف ہوگی۔
وہ کہتی ہیں ’لوگ جانتے ہیں کہ پولیس جارح مزاج ہے لیکن یہ نئی جارحیت ججوں کی جانب سے سامنے آ رہی ہے۔‘
جنرل عبدالکریم کا اصرار ہے کہ ہے عدلیہ ٹھیک کام کر رہی ہے۔ ’عدالت شواہد اور دستاویزات کی بناد پر فیصلہ سناتی ہے۔‘
’جب کسی ملزم کے خلاف مقدمہ قائم ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے خلاف اتنے شواہد ہیں کہ اس نے جرم کیا ہے اور کئی لوگ گرفتاری کے بعد رہا بھی کیے گئے ہیں۔‘
یوسف کے وکلا کا خیال ہے کہ اب بھی تبدیلی کی امید ہے۔
یاسمین کا کہنا ہے کہ ’اب میرا مقصد صرف قیدیوں کی رہائی ہے۔ میرا خواب ہے کہ جج غیر سیاسی ہوں۔ اگر ہم اس پر ضروری اصرار کرتے رہیں تو مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔‘
’اگر یہ سب میری زندگی کے آخری دن بھی حاصل ہوتا ہے تو میں پھر بھی کوشش جاری رکھوں گی۔‘
ایک برس جیل میں گذارنے کے بعد بھی یارا سلام مثبت سوچ رکھتی ہیں۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’اس نے ایک خط میں لکھا: مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں قید میں ہوں۔ ایک شخص کے احساسات اس کے اندر سے آتے ہیں۔ وہ ایک سڑک پر چلتے ہوئے بھی خود کو قیدی محسوس کرتا ہے اور جیل میں ہوتے ہوئے بھی خود کو آزاد محسوس کر سکتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ ایک صحیح چیز کا دفاع کر رہا ہے۔‘
’وہ کسی قیمت پر بھی اپنی آزادی قربان نہیں کرے گا۔‘







