وینزویلا کا امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کا عندیہ

،تصویر کا ذریعہReuters
وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے کہا ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے امریکہ سے تصفیہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے امریکی منصوبے کو ختم کیا جا سکے۔
صدر نیکولس مادورو نے دارالحکومت کراکس میں 12 ممالک کی تنظیم یونین آف ساؤتھ امریکن نیشنز کے سیکریٹری جنرل ایرنستو سیمپر سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے بعد انھوں نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ایرنستو سیمپر سے کہا ہے کہ وہ وینزویلا اور امریکہ میں تصفیہ کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
امریکہ نے دو ماہ پہلے ہی دسمبر میں وینزویلا کے حکام پر پابندیاں عائد کیں جبکہ چند دن پہلے ہی امریکہ نے نامعلوم حکام پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت امریکی ویزے کی پابندی لگائی ہے۔
صدر نیکولس مادورو نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر غلطی کو درست کرتے ہوئے وقت پر وینزویلا کی تباہی پر مبنی بغاوت کے منصوبے کو روکیں۔
’صدر اوباما، میں یہ اچھے ارادے سے کہہ رہا ہوں، میں امید کرتا ہوں کہ آپ وینزویلا کے بارے میں ایک نیا اور مختلف موقف اپنائیں گے۔‘
صدر نیکولس مادورونے اس کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یونین آف ساؤتھ امریکن نیشنز سے کہا ہے کہ امریکہ سے ثالثی کر کے جنوبی امریکہ کے ملک کی حمایت کریں۔
انھوں نے کہا کہ یونین آف ساؤتھ امریکن نیشنزکے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ رکن ممالک کو ان کے خدشات سے آگاہ کریں گے اور یہ ان پر ہی منحصر ہے کہ وہ کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر نیکولس مادورو نے امریکی سے تعلقات میں بہتری کی بات ایک ایسے وقت کی ہے جب چند دن پہلے ہی انھوں نے نائب امریکی صدر جو بائیڈن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کی حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات گذشتہ کئی سالوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں کے سال 2010 کے بعد سے سفارتی رابطے نہیں ہیں۔
وینزویلا میں گذشتہ کچھ عرصے سے معاشی بحران کی وجہ سے حکومت کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے۔
صدر نیکولس مادورو کا کہنا ہے کہ بعض مغربی طاقتوں کی پشت پناہی سے حزب اختلاف ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔







