مادورو نے وینزویلا کے صدر کا حلف اٹھا لیا

مادورو نے اپنی افتتاحی تقریب میں کہا کہ وہ ’وینزویلا کے تمام شہریوں‘ کے صدر بننا چاہتے ہیں
،تصویر کا کیپشنمادورو نے اپنی افتتاحی تقریب میں کہا کہ وہ ’وینزویلا کے تمام شہریوں‘ کے صدر بننا چاہتے ہیں

نیکولس مادورو نے وینزویلا کے صدر اور اوگو چاویس کے جانشین کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ چاویس 14 سال برسرِ اقتدار رہنے کے بعد مارچ میں فوت ہو گئے تھے۔

مادورو کی تقریر کے دوران ایک آدمی نے سٹیج پر آ کر مائکروفون تھام لیا، تاہم انھیں پکڑ کر الگ کر دیا گیا جس کے بعد مادورو نے سکیورٹی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انھیں گولی بھی ماری جا سکتی تھی۔

دارالحکومت کراکس کی گلیوں میں ہزاروں افراد نے جمع ہو کر مادورو کی حمایت کے لیے جمع ہوئے۔

اس تقریب سے پہلے فیصلہ کیا گیا تھا کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات کا آڈٹ کروایا جائے گا۔ انتخابات میں مادورو نے اپنے حریف اینریک کیپریلس پر 1.5 فیصد ووٹوں کی برتری حاصل کی تھی۔

کیپریلس نے کہا کہ ووٹنگ میں بےقاعدگیاں ہوئی ہیں، تاہم وہ نتائج کو تسلیم کرتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے حامیوں نے مادورو کی حلف برداری کے خلاف برتن بجا بجا کر اور سالسا موسیقی چلا کر مظاہرہ کیا۔

کیپریلس نے ٹوئٹر نے لکھا کہ سالسا ’وینزویلا بھر میں سنا جائے گا۔‘

مادورو نے اپنی افتتاحی تقریب میں کہا کہ وہ ’وینزویلا کے تمام شہریوں‘ کے صدر بننا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ایک لمبی تقریر میں حاضرین کو بتایا، ’میں آپ کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوں تاکہ ہم سب عوام کے لیے مشترکہ قوم تعمیر کر سکیں۔‘

اس تقریب میں درجنوں ملکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی جن میں برازیل، کیوبا، کولمبیا، ایران اور بعض عرب ممالک کے ارکان شامل ہیں۔

تاہم مادورو کی تقریر میں ایک شخص نے اس وقت خلل ڈالا جب سٹیج پر چڑھ آیا اور اس نے مائیک تھام لیا۔ نومنتخب صدر نے اپنی سکیورٹی پر تنقید کی۔ انھوں نے حاضرین کو بتایا، ’مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔‘

تاہم اس کے بعد انھوں نے اطمینان حاصل کرنے کے بعد کہا، ’میں اس آدمی سے بعد میں بات کروں گا۔‘

اس شخص کے مقاصد کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا۔ تاہم انھوں نے سرخ جیکٹ پہن رکھی تھی، جو ’چاویستا‘ یعنی چاویس کے حامیوں کا رنگ ہے۔ وہ ابھی صرف اپنا نام ہی بتا پایا تھا کہ اسے پکڑ کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

اپنی تقریر میں مادورو نے ’انقلاب در انقلاب‘ کا وعدہ کیا اور اپنے حریف کیپریلیس کو پیدرو کارمونا سے تشبیہ دی جنھیں 2002 میں وینزویلا میں آنے والے انقلاب کے بعد مختصر مدت کے لیے وینزویلا کا صدر بنا دیا گیا تھا۔

’اگر ضروری ہوا تو میں شیطان تک سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں، حتیٰ کہ اپنے خلاف ان کی نفرت اور عدم برداشت ختم کرنے کے لیے نئے کارمونا تک سے بھی۔‘

نئے صدر نے کہا کہ وہ جرم اور بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے اور صدر چاویس کے سماجی پروگرام جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا، میں پہلا چاوستا صدر ہوں، اور پہلا مزدور صدر ہوں۔‘

کیپریلس نے اپنے مظاہرین سے پرامن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔