ہانگ کانگ: جمہوریت پسند مظاہرین کا احتجاج دوبارہ شروع

،تصویر کا ذریعہAFP

گذشتہ سال کے مظاہروں اور دھرنوں کے بعد ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند مظاہرین نے اس سال کا پہلا بڑا جلوس نکالا ہے۔

جلوس کے ساتھ پولیس کا بڑی تعداد موجود تھی تاکہ مظاہرین ہانگ کانگ کے مرکزی حصے پر دوبارہ قبضہ نہ کر سکیں۔ گذشتہ سال دھرنوں نے شہر کے بڑے حصے کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

تاہم اطلاعات کے مطابق مظاہرین کا دوبارہ دھرنا دینے کا ارادہ نہیں ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو کے انتخاب کے لیے مکمل طور پر جمہوری انتخابات کروائے جائیں۔

چین نے وعدہ کیا ہے نیم خودمختار ہانگ کانگ میں 2017 میں انتخابات کروائے جائیں گے، تاہم اس کا اصرار ہے کہ اس سے قبل بیجنگ امیدواروں کی چھان بین کرے گا۔

ستمبر 2014 میں دسیوں ہزار مظاہرین نے تبدیلی کے مطالبے کے تحت ہانگ کانگ کی سڑکوں کا رخ کیا تھا۔

ان کا پولیس کے ساتھ پرتشدد تصادم ہوا تھا، جس کے بعد بالآخر دسمبر میں احتجاجی کیمپ خالی کروا لیے گئے۔

ایک منتظم ڈیزی چین نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تازہ ترین احتجاج یہ ثابت کرے گا کہ گذشتہ برس کے مظاہرے ہانگ کانگ کی تاریخ میں اہم موڑ کی حیثیت رکھتے تھے:

’گذشتہ برسوں میں ہانگ کانگ کے باسی آج کے مقابلے پر کم سیاسی تھے۔ ’’اوکیوپائی‘‘ تحریک نے لوگوں کو جگا دیا ہے۔ یہ جلوس لوگوں کو آواز دے رہا ہے کہ وہ جمہوریت کی تحریک کا ساتھ دیں۔‘

تاہم ہانگ کانگ کی ایگزیکٹیو کونسل نے لام وون کوانگ نے اتوار کے روز ایک مقامی ریڈیو کو بتایا کہ ’آپ مرکزی حکام کو دھمکا نہیں سکتے۔‘

زرد رنگ کی چھتریاں ہانگ کانگ کی جمہوریت پسند تحریک کی علامت ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC CHINESE

،تصویر کا کیپشنزرد رنگ کی چھتریاں ہانگ کانگ کی جمہوریت پسند تحریک کی علامت ہیں