ہانگ کانگ:احتجاجی رہنماؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا

اوکیوپائی سینٹرل تحریک کے مخالف گروپس بھی جمع ہوئے اور نعرے لگائے: ’انھیں گرفتار کر لو‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناوکیوپائی سینٹرل تحریک کے مخالف گروپس بھی جمع ہوئے اور نعرے لگائے: ’انھیں گرفتار کر لو‘

ہانگ کانگ میں احتجاجی تحریک ’اوکیوپائی سنٹرل‘ کے تین رہنماؤں نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا ہے لیکن پولیس نے انھیں گرفتار نہیں کیا ہے۔

تحریک کے بانیوں میں شامل بینی تائی، چن کِن مین اور چُو یائی منگ نے کہا کہ وہ احتجاج کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

حکام نے اس احتجاج کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن یہ تینوں رہنما پولیس حکام سے کچھ دیر تک ملاقات کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔

اوکیوپائی سینٹرل کے حامیوں اور طلبہ کا مطالبہ ہے کہ چین سنہ 2017 میں ہانگ کانگ کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں کی جانچ کا منصوبہ ترک کرے۔ مظاہرین کے دونوں گروہوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ہانگ کانگ کی حکومت چین سے دوبارہ بات چیت کرے۔

ہانگ کانگ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کہتے ہیں کہ اوکیوپائی سنٹرل کی جانب سے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنا ایک علامتی قدم تھا جس کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ وہ جس غیر قانونی کارروائی میں ملوث رہے ہیں، وہ ایک بڑے مقصد کے لیے اور ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

یہ تینوں رہنما احتجاج کی حمایت کرنے والے کیتھولک کارڈینل زین زی کیون کے ساتھ مرکزی پولیس سٹیشن گئے۔ چاروں افراد پولیس سٹیشن میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت گزار کر نکل آئے اور کہا کہ انھیں بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا ہے۔

تائی بینی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ پولیس افسروں نے ان چاروں کو بھرنے کے لیے ایک ایک فارم دیا۔ انھیں ذاتی کوائف دینے اور جرائم کی ایک فہرست کے سامنے نشان لگانے کا کہا گیا۔ انھوں نے غیر قانونی طور پر ہجوم کے جمع ہونے کے خانے پر نشان لگایا۔

تائی نے ایک ریڈیو شو پر کہا کہ مجھے کوئی افسوس نہیں اور میں یہی کرتا رہوں گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتائی نے ایک ریڈیو شو پر کہا کہ مجھے کوئی افسوس نہیں اور میں یہی کرتا رہوں گا

تائی بین نے کہا کہ پولیس نے انھیں بتایا کہ ان کو گرفتار نہیں کیا گیا اس لیے ان سے صرف معلومات لی جا رہی ہیں اور ’انھیں موزوں وقت پر دوبارہ پولیس سٹیشن بلایا جائے گا۔‘

تحریک کے رہنماؤں کی پیروی کرتے ہوئے بعض دیگر افراد نے بھی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس کے مطابق 24 افراد نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا اور پولیس نے انھیں عوامی مقامات پر قبضہ فوری طور پر ختم کرنے کا کہا۔

اوکیوپائی سینٹرل کے رہنما جب پولیس سٹیشن سے واپس آئے تو ان سے ملنے کے لیے ایک بڑی تعداد میں ان کے حامی جمع ہو گئے جنھوں نے نعرہ بازی بھی کی: ’ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں۔‘

اوکیوپائی سینٹرل تحریک کے مخالف گروپ بھی وہاں جمع ہوئے اور نعرے لگائے: ’انھیں گرفتار کرو۔‘

اس سے پہلے تائی نے ایک ریڈیو شو پر کہا کہ مجھے کوئی افسوس نہیں ہے اور میں یہی کرتا رہوں گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں تاجروں اور مختلف افراد کی جانب سے احتجاج کی وجہ سے بد انتظامی کے سلسلے میں 30 سے زائد مقدمات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کی رات اور پیر کی صبح پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بدترین تصادم دیکھنے میں آیا تھا اور اس دوران ہانگ کانگ میں سرکاری دفاتر جزوی طور پر بند رہے۔