سوڈانی صدر کے لیے چینی محل

جنرل گورڈن کا سفید محل آج بھی دریائے نیل کے ساحل پر ایستادہ ہے

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنجنرل گورڈن کا سفید محل آج بھی دریائے نیل کے ساحل پر ایستادہ ہے

آج سے 130 برس پہلے جنرل چارلس گورڈن کو خرطوم میں گورنر جنرل کے محل میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

یہ برطانیہ کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ضدی ہیروازم جس میں طنز کی چبھن اور شاہی خواہشات کی بڑھتی ہوئی نادانیاں شامل ہیں۔

اور اب چین کی باری ہے۔ جنرل گورڈن کا سفید محل آج بھی دریائے نیل کے ساحل پر ایستادہ ہے۔

کئی برسوں تک یہ سوڈان کے صدر عمر البشیر کا گھر رہا۔ لیکن اب صدر کے لیے چینیوں نے قریب ہی ایک بہت بڑا محل بنا دیا ہے اور اس کا افتتاح 26 جنوری کو کیا گیا۔ اور اس تاریخ کا انتخاب محض ایک اتفاق نہیں لگتا۔

چینیوں کا ایسے معاملات کا ایک سلسلہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں انھوں نے اسی طرح کی عمارتیں انگولا، برونڈی، گنی بیساؤ، لیزوتھو، ملاوی، موزمبیک، سیرالیون، اور ٹوگوں میں بنائیں ہیں۔ یہ فہرست ابھی اور آگے جانے کا امکان ہے۔

آپ اسے باریک سفارتکاری کہہ سکتے ہیں یا ٹھوس سفارتکاری بھی۔

صدر عمر البشیر کے لیے چینیوں نے قریب ہی ایک بہت بڑا محل بنا دیا ہے اور اس کا افتتاح 26 جنوری کو کیا گیا

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنصدر عمر البشیر کے لیے چینیوں نے قریب ہی ایک بہت بڑا محل بنا دیا ہے اور اس کا افتتاح 26 جنوری کو کیا گیا

چین کو افریقہ کی معدنیات کی دولت چاہیے جس کے بدلے میں اس پر انسانی حقوق سے صرفِ نظر کرنے کا الزام ہے۔

مثال کے طور پر سوڈان کےپاس تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔ اور اس کے صدر حال ہی میں قتلِ عام کے الزام میں جرائم کی عالمی عدالت کو مطلوب تھے لیکن وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

لیکن چین کا افریقہ میں کردار بڑھ رہا ہے۔ وہ جنوبی سوڈان میں شاپنگ مالز، ریلوے لائنز کی تعمیر کر رہا ہے اور یہاں امن فوج بھیج رہا ہے۔

اس وقت اس خطے میں چین کے لاکھوں باشندے کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ دور کلف لگی وردیوں اور جنرل گورڈن کے سخت گیر زمانے جیسا نہیں ہے۔