جنوبی سوڈان: فوج کی بنتیو کی جانب پیش قدمی

جنوبی سوڈان میں فوج باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں بینتیو اور بور میں پیش قدمی کر رہی ہے جبکہ بینتیو میں باغیوں نے اپنے دفاع کو مضبوط کیا ہے۔
جنوبی سوڈان کی فوج کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومتی فورسز بنیتو کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
فوج بور سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور تشدد کے باعث سینکڑوں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
15 دسمبر سے جاری تشدد اور لڑائی میں کم سےکم ایک ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔
فائر بندی کے لیے علاقائی سطح پر کی جانے والی کوشش معطل ہو چکی ہیں۔
علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کے مسلح افراد نقل مکانی کرنے والے افراد پر گولی چلا رہے ہیں، انہوں نے پورے کے پورے دیہات نذر آتش کر دیے ہیں اور فصلیں لوٹ لی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریا میں تیر کر جان بچانے والے ایک گلہ بان گیبریئل بول نے بتایا کے وہ خوش قسمتی سے بچ گیا ہے۔
’ہم تیر رہے تھے اور حملہ آوروں نے کنارے سے مشین گن سے گولیاں چلائیں، وہ مسلسل گولیاں چلاتے رہے۔‘
’گولیاں پانی سے ٹکرا رہی تھیں لیکن ہم رک نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ ہمیں مار دیتے۔‘
جنوبی سوڈان کی حکومت کا یہ آپریشن باغی فوجیوں سے علاقے کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس خطے میں تیل کے اہم ذخائر موجود ہیں۔
بی بی سی نامہ نگار ایلسٹر لیتہیڈ کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد بنتیو میں اقوام متحدہ کے اڈّے میں پناہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کے 11 مشتبہ باغیوں کے گرفتار کرنے کے بعد حکومت اور باغی فورسز کے درمیان مذاکرات بظاہر ناکام ہوگئے ہیں۔
اس کشیدگی کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے اور اس میں دنکا اور نوئر برادری کے درمیان نسل پرستانہ فسادات بھی ہوئے ہیں۔
کئی ممالک کی حکومتوں نے جنوبی سوڈان سے اپنے شہریوں کو نکال لیا ہے اور بہت سے جنوبی سوڈان کے شہری ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔

یہ معاملہ دسمبر 2013 کے وسط میں شروع ہوا جب صدر سلوا کیئر نے اپنے نائب ریئک مچار پر بغاوت کرنے کا الزام لگایا۔
ریئک مچار الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے گیارہ مشتبہ باغیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جوبا کے مقامی صحافی مادنگ نگور نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکراتکاروں کی ناکامی میں ایک اہم مسئلہ 11 مشتبہ باغیوں کی رہائی کا مسئلہ ہے۔
یونیٹی ریاست میں تیل کے اہم ذخائر موجود ہیں اور جنوبی سوڈان کے لیے یہ ریاست زرِ مبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔
اس کشیدگی کے آغاز سے تیل کی پیداوار میں تقریباً 20 فیصد کمی ہو گئی ہے۔
بنتیو اور جونگلی ریاست کا دارالحکومت بور، دونوں ہی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔
فوج کے ترجمان فلیپ اوگوئر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بور کے گرد لڑائی جاری ہے اور حکومتی فوج اسے واپس لینے کے لیے آپریشن کر رہی ہے۔
اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان کے نامہ نگار جب بور سے 25 کلومیٹر دور منکامن قصبے میں پہنچے تو وہاں کے رہائشییوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر رہی تھی۔
اے ایف پی کا کہنا ہے کہ وہاں پر شدید گولہ باری کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں انسانی فلاح کی صورتحال انتہائی ناخوشگوار ہے۔







