جنوبی سوڈان میں امن فوج کے لیے پاکستان سے بھی رابطہ

جنوبی سوڈان میں خون خرابہ روکنے کے لیے عالمی کوششوں میں تیزی آئی ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جنوبی سوڈان میں امن فوج کے دستوں میں اضافہ کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سمیت متعدد عالمی لیڈروں سے بات کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون جنوبی سوڈان میں موجود امن فوج کے سات ہزار فوجیوں میں مزید ساڑھے پانچ ہزار فوجیوں کا اضافہ کرنے کی کوششوں میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل نے امن فوج میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد عالمی رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو جنوبی سوڈان میں امن دستوں کی تعداد دگنی کر کے ساڑھے 12 ہزار کرنے کی متفتہ منظوری دی تھی۔
سلامتی کونسل سے منظوری کے بعد اب مزید فوجی امن مشن کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی عالمی پولیس فورس کے اہلکاروں کی تعداد بھی 900 سے بڑھا کر 1323 کر دی جا ئے گی۔
سلامتی کونسل کے ووٹ کے نتیجے میں افواج، پولیس اور سازوسامان کو مختلف افریقی ممالک میں قائم اقوام متحدہ کے مشنوں سے منتقل کیا جا سکے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ’اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ یہ سیاسی بحران ہے جس کا پرامن اور سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیئر اور باغی رہنما ریک ماچر سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا خاتمہ کر کے مصالحانہ سیاسی کا آغاز کریں۔
جان کیری کی ترجمان جین ساکی نے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری بات چیت شروع کریں۔
انھوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان کے لیے امریکی ایلچی جوبا میں ہیں تاکہ دونوں گروہوں کے سربراہان کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
اس لڑائی نے جنوبی سوڈان میں نسلی تفریق کو واضع کر دیا ہے۔
باغیوں کے سربراہ رییک ماچر کا تعلق نوئر قبیلے سے ہے اور وہ دنکا قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدر کیئر سے نبرد آزما ہیں۔
جنوبی سوڈان میں تشدد کا آغاز پندرہ دسمبر کو ہوا جب صدر سلوا کیئر نے ریک ماچر پر اپنے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا جو جولائی میں برطرفی سے قبل ملک کے نائب صدر تھے۔
ریک ماچر اس کلزام کی تردید کرتے ہیں کہ انھوں نے حکومت پر قبضے کی کوشش کی۔
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ کار ٹوبی لینزر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گذشتہ ہفتے جنوبی سوڈان میں تشدد کے واقعات میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔
ٹوبی لینزر جنوبی سوڈان کی شمالی ریاست یونٹی میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ جنوبی سوڈان کے لیے تباہ کن ہفتہ رہا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ نے منگل کو یہ بھی کہا تھا کہ اسے کم از کم تین بڑی اجتماعی قبروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
لینزر نے بی بی سی کو بتایا ’میرے خیال سے اب یہ بات بلا تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
’جب ہم نے اہم قصبوں کے ہسپتالوں میں دیکھا، اور میں نے خود دارالحکومت کے ہسپتالوں میں زخموں کی نوعیت دیکھی، تو یہ ایسی صورتِ حال نہیں ہے جس میں کہا جا سکے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔‘
لینزر نے کہا کہ لڑائی سے بھاگ کر پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد ’دسیوں ہزار یا شاید لاکھوں میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جنوبی سوڈان میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی کا اندازہ اقوامِ متحدہ کے ایک کیمپ سے لگایا جا سکتا ہے جہاں ساڑھے سات ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔
’ہم صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے کیمپ کے اندر مختلف سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور میں نے انھیں کہا کہ عورتوں اور بچوں کی خاطر جہاں تک ممکن ہو حالات کو پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔‘
اقوامِ متحدہ کے کمیشنر برائے انسانی حقوق نوین پلے نے کہا ’دنکا اور نوئر قبیلوں کے افراد میں خوف پایا جاتا ہے کہ انھیں ان کی نسل کی بنیاد پر قتل کر دیا جائے گا۔‘
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کم از کم 80 ہزار افراد اس کشیدگی کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل صدر کیئر نے جوبا شہر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج نے بور شہر کو باغیوں سے چھڑا لیا ہے اور اب وہ بچے کھچے دشمنوں کا صفایا کر رہی ہے۔‘
صدر کیئر اور باغیوں کے سربراہ ماچر دونوں نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے رضامند ہیں۔ تاہم ماچر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل ان کے سیاسی حلیفوں کو رہا کیا جائے، جب کہ کیئر کسی قسم کی پیشگی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سنہ 2001 میں آزادی پانے سے قبل سوڈان 22 سال تک خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا تھا، جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔







