سزائے موت پانے والی سوڈانی خاتون اٹلی پہنچ گئیں

ترکِ اسلام پر موت کی سزا پانے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی بیٹی مایا جیل میں پیدا ہوئی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنترکِ اسلام پر موت کی سزا پانے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی بیٹی مایا جیل میں پیدا ہوئی

اسلام ترک کرنے پر موت کی سزا پانے والی سوڈانی خاتون خرطوم میں امریکی سفارت خانے میں ایک مہینہ گزارنے کے بعد اٹلی پہنچ گئی ہیں۔

ترکِ اسلام کرنے والی سوڈانی خاتون مریم ابراہیم اسحٰق کو موت کی سزا دی گئی تھی لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

مریم اور ان کا خاندان اٹلی کے سرکاری طیارے میں اٹلی پہنچا۔ اطالوی وزیر لاپو پیستیلی نے بھی ان کے ہمراہ سفر کیا۔

مریم کے والد مسلمان ہیں لہٰذا وہ بھی مسلمان ہیں اور اسلامی قانون کے تحت اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتیں، لیکن ان کی ماں نے ان کی بطور عیسائی پرورش کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی مسلمان نہیں تھیں۔

اٹلی کے نائب وزیرِ خارجہ لاپو پستیلی نے مریم اور ان کے بچوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر فیس بک پر پوسٹ کی اور کہا کہ’ وہ روم میں اترنے والے ہیں اور مشن مکمل ہو گیا ہے۔‘

مریم کے شوہر ڈینیئل وانی بھی عیسائی ہیں جن کا تعلق جنوبی سوڈان سے ہیں اور ان کے پاس امریکی شہریت ہے۔ ترکِ اسلام پر موت کی سزا پانے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی بیٹی مایا جیل میں پیدا ہوئی۔

 اٹلی کے نائب وزیرِ خارجہ لاپو پستیلی نے مریم اور ان کے بچوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر فیس بک پر پوسٹ کی اور کہا کہ’ وہ روم میں اترنے والے ہیں اور مشن مکمل ہو گیا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشن اٹلی کے نائب وزیرِ خارجہ لاپو پستیلی نے مریم اور ان کے بچوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر فیس بک پر پوسٹ کی اور کہا کہ’ وہ روم میں اترنے والے ہیں اور مشن مکمل ہو گیا ہے۔‘

انھیں موت کی سزا سنانے پر عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

سفر کرنے کے لیے مریم کو جنوبی سوڈان نے دستاویزات فراہم کی تھیں لیکن انھیں خرطوم ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا اور سوڈانی حکام نے کہا کہ ان کی سفری دستاویزات جعلی تھیں۔

اس نئے الزامات کا مطلب یہ تھا کہ وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتیں تھیں، تاہم انھیں خرطوم میں امریکی سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا۔

گذشتہ مہینے مریم کے والد کے خاندان نے عدالت میں ان کی شادی کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دینے کی درخواست دی کہ ایک مسلمان خاتون غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی۔

خیال رہے کہ سوڈان مسلم اکثریتی ملک ہے اور وہاں 80 کی دہائی سے اسلامی قوانین نافذ ہیں۔