سوڈان: خاتون کو ترکِ اسلام پر پھانسی کی سزا

۔۔۔ خاتون کو دوبارہ مذہبِ اسلام اختیار کرنے کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا تھا لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں
،تصویر کا کیپشن۔۔۔ خاتون کو دوبارہ مذہبِ اسلام اختیار کرنے کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا تھا لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں

افریقی ملک سوڈان میں عدالت نے ایک خاتون کو اسلام ترک کر کے ایک عیسائی مرد سے شادی کرنے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

اس خاتون نے اسلام ترک کر کے ایک عیسائی مرد سے شادی کی ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے سزا کی مذمت کرتے ہوئے خاتون کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جس خاتون کو سزا دی گئی ہے وہ حاملہ ہیں اور سزا پر عمل دو سال کے بعد کیا جائے گا۔

سوڈان میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور یہاں اسلامی قوانین نافذ ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کی ایک عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو فیصلہ واپس لینے کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا تھا لیکن آپ مذہب اسلام اختیار نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہیں۔ میں آپ کو پھانسی کی سزا سناتا ہوں۔‘

سوڈان میں مغربی ممالک کے سفارت خانوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے سوڈان پر زور دیا ہے وہ ایک حاملہ خاتون کے اپنی مرضی سے مذہب منتخب کرنے کے حق کا احترام کرے۔

جج نے خاتون کو زنا کے الزام میں سو کوڑوں کی سزا بھی سنائی ہے کیونکہ ملک میں نافذ اسلامی قانون کے تحت مسلمان خواتین کی عیسائی مردوں سے شادی تسلیم نہیں کی جاتی۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کو کوڑوں کی سزا اس وقت دی جائے گی جب وہ زچگی کے بعد صحت یاب ہو جائیں گی۔

اے ایف پی کے مطابق مقدمے کے فیصلے سے پہلے ایک اسلامی رہنما نے خاتون سے علیحدگی میں 30 منٹ تک ملاقات کی۔ اس کے بعد خاتون نے پرسکون انداز میں جج کو بتایا کہ وہ عیسائی ہیں اور انھوں نے ترک اسلام نہیں کیا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مریم یحییٰ ابراہیم اشحاگ کی پرورش آرتھوڈوکس عیسائی کے طور پر ہوئی ہے کیونکہ یہ ان کی والدہ کا مذہب تھا۔ ان کے والد مسلمان تھے لیکن مریم کے بچپن میں وہ انھیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

عدالت میں جج نے خاتون کو ان کے مسلمان نام ادرف الہادی محمد عبداللہ کے نام سے پکارا۔

اس خاتون کو گذشتہ اتوار کو سزا سنائی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ انھیں دوبارہ مذہب اسلام اختیار کرنے کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا تھا۔

50 کے قریب لوگوں نے سزا کے خلاف احتجاج کیا ہے اور ان کا سامنا سزا کے حق میں مظاہرہ کرنے والے افراد سے ہوا لیکن دونوں گروپوں میں کوئی تصادم نہیں ہوا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق خاتون کو اگست 2013 میں زنا کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں جب انھوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں عیسائی ہیں، تو ان پر ترکِ اسلام کا الزام عائد کیا گیا تھا۔