جنوبی سوڈان: حملے میں تین بھارتی فوجی ہلاک

اقوام متحدہ نے دارالحکومت جوبا اور شہر بور میں 30000 سے زیادہ افراد کو محفوظ پناہ دے رکھی ہے
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ نے دارالحکومت جوبا اور شہر بور میں 30000 سے زیادہ افراد کو محفوظ پناہ دے رکھی ہے

اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر اشوک مکرجی نے بتایا ہے کہ جنوبی سوڈان کی جنجلئی ریاست میں اقوام متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر حملے کے دوران تین بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارتی فوجی جنوبی سوڈان میں امن قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ تھے۔

جمعرات کو ملک کی دوسری بڑی قوم نوئر سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا اور عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان عام شہریوں میں سے زیادہ کا تعلق ملک کی اکثریتی قوم دنکا سے تھا۔

جنوبی سوڈان میں حال ہی میں صدر سلوا کیر نے اپنے سابق نائب ریک مچر اور ان کے حامیوں کی جانب سے ایک مبینہ بغاوت کو کچلنے کا دعویٰ کیا تھا اور تب سے ملک میں کشیدگی جاری ہے۔

اتوار کو شروع ہونے والی اس کشیدگی میں اب تک 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر حالات دارالحکومت جوبا میں بگڑے تھے تاہم اب پورے ملک میں تناوع جاری ہے۔

دنکا قبیلے سے تعلق رکھنے والے صدر کیر نے فسادات کا الزام ریک مچر کے حامی فوجیوں پر لگایا ہے۔ ریک مچر ایک نوئر ہیں۔

سابق نائب صدر ریک مچر بغاوت اور فسادات کو اکسانے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

بھارتی سفیر اشوک مکرجی نے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان نیویارک میں کیا۔ اکوبو میں واقع اقوام متحدہ کے اس کمپاؤنڈ میں 43 بھارتی امن فوجی تعینات تھے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حملہ آور زیادہ تر نوجوان تھے اور ان کا نشانہ کمپاؤنڈ میں پناہ لیے 32 دنکا شہری تھے۔

حملے کے بعد کمپاؤنڈ کی سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے دنکا اور نوئر قومینوں کے درمیان ممکنہ خانہ جنگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

جنرل سیکٹری بان کی مون کا کہنا تھا کہ انہیں جنوبی سوڈان میں بڑھتے ہوئے نسل پرست فسادات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شدید تشویش ہے۔

تاہم جنوبی سوڈان میں حکومت کا اصرار ہے کہ یہ دو قبیلوں کی قیادت کے درمیان طاقت اور سیاست کی لڑائی ہے۔

ایک حکومتی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم بغاوت کی اس کوشش کو نسل پرستانہ فسادات کا رنگ دینے کی مزمت کرتے ہیں۔‘

اقوام متحدہ نے دارالحکومت جوبا اور شہر بور میں 30000 سے زیادہ افراد کو محفوظ پناہ دے رکھی ہے۔

جنوبی سوڈان نے 2011 میں آزادی حاصل کی تھی اور تیل کے ذخائر سے مالامال اس ملک میں اب تک مستحکم حکومت نہیں آ سکی۔