جنوبی سوڈان: فوجی دھڑوں میں تصادم، ’سینکڑوں ہلاک‘

اقوام متحدہ نے غیر مصدقہ خبروں کے حوالے سے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان میں فوج کے مخالف دھڑوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سفارت کاروں نے کہا ہے کہ انھیں مختلف ذرائع سے دارالحکومت جوبا میں یہ خبر ملی ہے کہ اس تصادم کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد چار سو سے پانچ سو کے درمیان ہے۔
واضح رہے کہ سوڈان میں صدر سلوا کیئر کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کی خبروں کے بعد گذشتہ دو دن سے تشدد کے واقعات جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں ’بہت حد تک ایک قسم کی خانہ جنگی‘ جاری ہے۔
اس سے قبل حکومت نے کہا تھا کہ کم از کم دس سینیئر سیاست دانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سابق وزیر خزانہ بھی شامل ہیں۔
صدر کیئر نے کہا کہ سابق نائب صدر ریئک مچار کے وفادار ایک فوجی گروہ نے اتوار کی شب حکومت پر قابض ہونے کی کوشش کی لیکن انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے دارالحکومت میں شام سے صبح تک کے کرفیو کا حکم دے رکھا ہے۔
لڑائی کی تفصیلات بہت کم مل سکی ہیں لیکن نیویارک میں منگل کو اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ’تصادم بظاہر زیادہ تر نسلی بنیادوں پر تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے فرانسیسی سفارت کار اور کونسل کے صدر جیرارڈ اروڈ نے کہا کہ جوبا میں اقوام متحدہ کی عمارت میں کم از کم 20 ہزار افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کونسل کو اقوام متحدہ کی امن قائم کرنے والے یونٹ کے چیف سے بہت کم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
مسٹر اروڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بعض رپورٹوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی خبر ہے لیکن ہم ابھی ان کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ بہر صورت ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ تصادم دو اہم نسلی گروہ ڈینکا اور نوئر کے درمیان ہے جو بہت حد تک خانہ جنگی کے زمرے میں آتا ہے۔‘
لیکن یونیٹی صوبے کے گورنر سائمن کون پاؤچ نے ایک سرکاری ویب سائٹ پر کہا ہے کہ اس تصادم کا نسلی لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

صدر کیئر نے کہا کہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب وردی پوش فوجیوں نے حکمراں جماعت سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ کے ایک اجلاس میں فائرنگ شروع کردی۔
اس کے بعد پیر کو بھی تصادم جاری رہے حالانکہ حکومت کا کہنا تھا کہ انھوں نے پھر سے پورا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
منگل کو صدارتی محل اور جوبا کے مختلف علاقوں میں گولی باری کے تازہ واقعات رونما ہوئے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر مچار کو تلاش کر رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ روپوش ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی سوڈان سنہ 2011 میں آزادی کے بعد سے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آزادی کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ شمالی سوڈان کے خلاف ایک دہائی سے جاری تصادم ختم ہو جائے گا۔
تیل کے ذخائر سے مالامال یہ ملک نسلی اور سیاسی طور پر منقسم ہے اور یہاں کئی مسلح گروپ سرگرم ہیں۔







