ہم جنس پرستی کہاں کہاں غیرقانونی ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
دنیا بھر میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جو ہم جنس پرست ہیں اور ایسی جگہوں پر رہ رہے ہیں جہاں ہم جنس پرستانہ تعلقات اور رشتے غیر قانونی ہیں اور ہم جنس پرست ہونے پر سزا دی جا سکتی ہے۔
حال ہی میں اقوامِ متحدہ نے اپنے ایک منصوبے ’فری اینڈ ایکول‘ یعنی آزاد اور مساوی کی ویب سائٹ پر <link type="page"><caption> ایک نقشہ</caption><url href="https://www.unfe.org/" platform="highweb"/></link> جاری کیا ہے جس میں مختلف ممالک کی قوانین اور سزاؤں کے حساب سے مختلف رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔
دنیا میں پانچ ممالک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے، ان میں سعودی عرب، ایران، یمن، سوڈان اور موریطانیہ ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان، پاپوا نیو گنی، ملائیشیا، برونائی دارالسلام، برما، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، ترکمانستان، ازبکستان، متحدہ عرب امارت، اومان، مصر، لیبیا، الجزائر، تیونس، مراکش، گنی، لائبیریا، سینیگال، آئیوری کوسٹ، نائیجیریا، کیمرون، انگولا، نمیبیا، زیمبیا، بوٹسوانا، زمبابوے، سوازی لینڈ، لیسوتھو، موزمبیق، تنزانیہ، ملاوی، کینیا، یوگینڈا، صومالیہ، ایتھیویا، اریٹیریا اور جنوبی سوڈان ایسے ممالک ہیں جہاں ہم جنس پرستی پر قانون میں سزا متعین ہے۔
اس کے علاوہ 70 ممالک ایسے ہیں جو اپنے شہریوں کو ان کے جنسی میلان پر قید کر سکتے ہیں۔
ایسے ممالک جہاں ہم جنس پرستی قانونی ہے وہاں بھی ہم جنس تعلقات کو مختلف نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ شادیوں پر پابندیاں یا جنسی تعلقات کے لیے رضامندی کی مختلف عمر جیسے معاملات میں۔
روس میں 18 سال سے کم عمر کے افراد کو ’غیر روایتی‘ جنسی تعلقات کی تشہیر پر گذشتہ سال جون میں پابندی لگا دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty Images
گذشتہ 200 سالوں میں کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ہم جنس پرست افراد کے درمیان تعلقات کو جرائم کی فہرست سے نکال دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1789 میں انقلابِ فرانس سے قبل ہم جنس پرستی کو جرائم کی فہرست سے نکالنے کے بعد اس عمل میں تیزی آئی خاص طور پر 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں۔
تاہم بعض ایسے ممالک ہیں جو اس کی مخالف سمت میں کام کر رہے ہیں اور ایسے نئے قوانین جاری کر رہے ہیں جن کے تحت موجودہ سزاؤں کے علاوہ مزید سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
گذشتہ سال بھارت نے 153 سال پرانا برطانوی سامراج کے دور کا قانون دوبارہ بحال کر دیا جس میں ہم جنس سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا۔
نائیجیریا میں ہم جنس تعلقات کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس نے حال ہی میں ہم جنس شادیوں اور ہم جنس افراد کے ایک دوسرے سے سرِ عام اظہارِ الفت پر پابندی لگا دی ہے۔
1789 میں دنیا کے 126 ممالک میں ہم جنس پرستی غیر قانونی تھی۔







