حسنی مبارک کے دونوں بیٹےجیل سے رہا

ان دونوں کو ان کے والد کے ہمراہ اپریل سنہ 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنان دونوں کو ان کے والد کے ہمراہ اپریل سنہ 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا

مصر میں بغاوت کی چوتھی سالگرہ کے کے ایک روز بعد ہی ملک کے سابق صدر حسنی مبارک کے دو بیٹوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق اعلٰی اور جمال مبارک پیر کو قاہرہ کی جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنے آبائی علاقے کی جانب سے روانہ ہو گئے۔

گذشتہ ہفتے ایک عدالت نے طاقت کے بے جا استعمال کے مقدمے میں ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

عدالت کے مطابق یہ دونوں مقدمے کے دوران ہی اپنی سزا سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں۔

گو کہ ان دونوں کی رہائی متوقع تھی لیکن پھر بھی اتوار کو حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں۔

سابق صدر حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کا باعث بننے والے عوامی غصے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ حسنی مبارک اور ان کے بیٹوں پر ملکی دولت کے غیر قانونی استعمال کا الزام تھا۔

51 سالہ جمال سابق حکمران جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رکن تھے اور انھیں اپنے والد کے جانشین کے طور دیکھا جا رہا تھا۔ جبکہ 53 سالہ اعلی کو تاجر برادری میں رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

مئی میں انھیں سرکاری خزانے سے 14 ملین ڈالر کی رقم خرد برد کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمئی میں انھیں سرکاری خزانے سے 14 ملین ڈالر کی رقم خرد برد کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

ان دونوں کو ان کے والد کے ہمراہ اپریل سنہ 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بدعنوانی، طاقت کے غلط استعمال اور خفیہ لین دین کا الزام تھا۔

مئی میں انھیں سرکاری خزانے سے 14 ملین ڈالر کی رقم خرد برد کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

لیکن رواں ماہ کے اوائل میں عدالت نے اس فیصلے کا کالعدم قرار دیا تھا اور اس کی وجہ مناسب قانونی کارروائی نہ ہونا قرار دیا تھا اور دوبارہ مقدمہ قائم کرنے کا حکم سنایا تھا۔