مصر: حسنی مبارک اقتدار ’چھوڑ سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters (audio)
مصر کی حکمراں جماعت کے ایک سینیئر رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں امید ہےکہ صدر حسنی مبارک اقتدار اپنے نائب عمر سلیمان کے حوالے کر رہے ہیں۔
تاہم خبررساں ادارے رائٹرز نے خبر دی ہے کہ مصر کے وزیرِ اطلاعات نے کہا ہے کہ صدر مبارک استعفیٰ نہیں دے رہے۔
حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل حسین بدراوی کا کہنا ہے کہ صدر مبارک جلد ہی قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔
مصر میں گزشتہ سولہ دن سے صدر مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور تحریر سکوائر پر قابض مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تیس سال سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک اقتدار چھوڑ دیں۔
مصر کی فوج نے کہا ہے کہ وہ عوام کے جائز مطالبات پر ردِ عمل کے لیے تیار ہے۔ ریاستی ٹی وی پر ایک بیان میں فوج نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت اس کے نزدیک سب سے اہم ہے۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم احمد شفیق نے بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مبارک کے اقتدار چھوڑنے کے مسئلے پر بات چیت ہو رہی ہے۔
قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈیوسٹ کہتی ہیں کہ یہ بات کہ صدر مبارک کی اقتدار چھوڑنے پر بات چیت جاری ہے بحائے خود ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔
ریاستی ٹی وی پر فوج کی ہائی کونسل کے اجلاس کی تصویریں بھی دکھائی گئیں جس نے ایک بیان میں کہا کہ عوام کی حفاظت اور سلامتی اس کے لیے سب سے اہم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق قاہرہ کی تحریر سکوائر میں جو مظاہروں کا مرکز ہے، مصری فوج کے کمانڈر نے مظاہرین کو بتایا ہے کہ ان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔







