حسنی مبارک بیٹے کی جانشینی پر ’خاموش‘

حسنی مبارک
،تصویر کا کیپشنحسنی مبارک اٹھائیس سال سے صدارت کے عہدے پر فائز ہیں

اٹھائیس سال سے منصبِ صدارت پر براجمان مصر کے صدر حسنی مبارک نے اپنے بیٹے جمال کو اپنا جانشین مقرر کرنے کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

اکاسی سالہ حسنی مبارک نے حکمران سیاسی جماعت این ڈی پی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کرنے کے بارے کچھ کہنے سے گریز کیا۔

مصر میں اگلے انتخابات 2011 میں ہونے ہیں۔ صدر حسنی مبارک جو اٹھائیس سال سے مصر کے صدر چلے آ رہے ہیں اپنے خطاب میں کہا کہ’ پارٹی کی نوجوان قیادت ملک کے مستقبل کے بارے واضح پروگرام رکھتی ہے‘۔

صدر حسنی مبارک کے مخالفیں کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ذریعے ملک میں سیاسی آزادیوں کو دباتے ہیں۔ صدر حسنی مبارک نے کہا کہ ملک ’آزادانہ‘ انتخاب ہوں اور وہ مقابلہ کے رججان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مصر پر امریکہ کا دباؤ ہے کہ وہ ملک میں انتخابی اصلاحات متعارف کروائے۔

صدر حسنی مبارک نے اپنے اٹھائیس سالہ دور میں کبھی بھی اپنا نائب مقرر نہیں کیا ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کیا ہے کہ کیا وہ 2011 میں چھٹی بار صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ اگلے انتخابات کے موقع پر صدر حسنی مبارک تیراسی سال کے ہو چکے ہوں گے۔