حسنی مبارک: زندگی پرایک نظر

بیاسی برس کے حسنی مبارک تیس برس سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہے۔

انیس سو اکیاسی میں صدر انوار السادات کے قتل کے وقت نائب صدر کے عہدے پر فائز حسنی مبارک کے بارے میں بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ اتنے لمبے تک برسرِ اقتدار رہیں گے۔

<link type="page"><caption> حسنی مبارک کی زندگی تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/02/110211_mubarak_life_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

صدر سادات کو اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اکتوبر سن انیس سو اکیاسی میں محمد حسنی سید مبارک منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے۔

اس وقت وہ بہت کم مشہور تھے لیکن انہوں نے صدر سادات کے قتل کی وجہ بننے والے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے استعمال کیا۔

پچھلے تیس برسوں میں حسنی مبارک پر چھ قاتلانہ حملے ہوئے۔ انیس سو پچانوے میں ایتھیوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں تو وہ بالکل بال بال بچے تھے۔

ان قاتلانہ حملوں کے ساتھ ساتھ صدر مبارک نے خود کو مغرب اور امریکہ کا قابل اعتبار اتحادی ثابت کر کے بھی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔

لیکن انہوں نے اپنے پورے عرصۂ اقتدار میں ملک میں ہنگامی حالت کے سہارے حکومت کی جس کے تحت شہری آزادیاں سلب کرلی گئی تھیں اور فوج اور سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔

حکومت کا اصرار تھا کہ شدت پسند اسلامی گروپوں کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یہ قوانین ضروری تھے تاکہ مصر میں سیاحت کی انتہائی اہم صنعت کو بچایا جاسکے۔

انیس سو اٹھائیس میں قاہرہ کے نزدیک مینوفیا کے صوبے میں پیدا ہونے والے حسنی مبارک نے اپنی ذاتی زندگی کو عوام الناس سے دور رکھنے پر ہمیشہ اصرار کیا ہے۔

انہوں نے قاہرہ کی امریکی یورنیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی خاتون سوزین سے شادی کی جن سے ان کے دو بچے ہیں ہیں ۔۔ جمال اور اعلٰی۔

جوانی کے زمانے میں ان کے ساتھیوں کا ہمیشہ یہ شکوہ ہوتا تھا کہ حسنی مبارک کے دن کا آغاز جمنازیم میں ورزش سے ہوتا تھا۔

صدر مبارک کے دوراقتدار میں ملک میں بظاہر استحکام رہا اور معاشی خوشحالی آئی اور شاید اسی وجہ سے مصریوں نے ان کے بلاشرکت غیرے اقتدار کو قبول کیا تھا تاہم گزشتہ کچھ برسوں سے وہ جمہوری آزادیوں کے فروغ کے لیے دباؤ میں محسوس ہو رہے تھے۔

اندرون ملک بڑھتی ہوئی بے چینی، علاقائی سیاست میں ان کی گھٹتی ہوئی اہمیت اور بگڑتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے بعد جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ان کے ہمدردوں اور اتحادیوں کو لازماً یہ فکر لاحق تھی کہ بیاسی برس کے حسنی مبارک کب تک اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں گے۔

لیکن مصر میں آزادیوں کے علمبرداروں کے نزدیک جمہوریت اور شہری آزادیوں کے بتدریج فروغ کے لیے صدر مبارک کے وعدے قابل اعتبار نہیں تھے۔