عدالت میں جوتے بطور زرِ ضمانت

امریکی ریاست میسا چوسٹس میں ایک شخص نے عدالت کی فیس نہ ادا کرنے کی صورت میں جیل سے بچنے کے لیے اپنے 85 ڈالر مالیت کے جوتے عدالت میں بطور زرِ ضمانت پیش کیے ہیں۔
جج ڈگلس ستودارٹ نے ملزم جیسن ڈول کی ضمانتی بانڈ کا یہ انوکھا انداز قبول کیا جن پر منشیات کے جرائم کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
جیسن ڈول پر یہ الزامات 2012 میں لگے تھے اور ان کا کہنا تھا کے وہ کورٹ کی فیس طلاق میں پیسے لگنے کی وجہ سے نہیں ادا کر سکے۔
عدالت کا کہنا ہے کے مسٹر ڈول 100 ڈالر دے کر یا 10 گھنٹے کمیونٹی سروس کر کہ اپنے جوتے واپس لے سکتے ہیں۔
ڈول پر سنہ 2012 میں منشیات کی کلاس بی اور سی کی ملکیت اور اس کے ساتھ ساتھ خطرناک ڈرائیونگ کرنے کے الزامات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کی 450 ڈالرفیس دینے کے قابل نہیں تھے جس سے ان کے خلاف مقدمہ ختم ہو جاتا۔
نتیجے کے طور پران کو کچھ دن جیل کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے اپنے مالی معاملات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہنگی طلاق کے عمل کے بعد ان کی مالی حالت خطرے میں ہے۔
ضلعی عدالت کے جج ستودارٹ کا یہ کہنا تھا کے وہ ڈول پر ضمانت کے بغیر رہائی کے لیے ان پر اعتماد نہیں کرتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن انھوں نے ملزم کو یہ کہا کے اگر وہ کسی تخلیقی خیال سے انھیں قائل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر ڈول نے اپنے نئے جوتے بانڈ کے طور پیش کیے جو انھیں کرسمس کے تحفے میں ملے تھے۔جج نے مسٹر ڈول کی اس پیشکش کو قبول کر لیا۔







