سائبر حملے پر شمالی کوریا کے خلاف نئی امریکی پابندیاں

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ نے فلم ساز کمپنی سونی پکچرز پر سائبر حملے کے جواب میں شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شمالی کوریا کی تین تنظیموں اور دس افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
امریکی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ یہ قدم شمالی کوریا کے ’اشتعال انگیز اور غیر مستحکم کن اقدامات‘ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ نے پہلے ہی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کے خلاف سائبر حملوں کے تناظر میں کارروائی کی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سونی پکچرز پر سائبر حملے میں شمالی کوریا کے ملوث ہونے کا اعلان کر چکا ہے۔
گارڈیئن آف پیش نامی گروپ کے ہیکروں نے گذشتہ برس نومبر کے آخر میں سونی کمپنی کے کمپیوٹروں سے حساس معلومات چرائی تھیں اور انھیں عام کر دیا تھا۔
انھیں ہیکروں نے لوگوں کو سونی کمپنی کی فلم ’دی انٹرویو‘ نہ دیکھنے کی تنبیہ کی تھی۔ یہ مزاحیہ فلم شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے قتل کے منصوبے کے بارے میں ہے اور اسے کرسمس پر چنندہ سنیماؤں اور انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSony Pictures
وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم شمالی کوریا کے اس حملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں جس کا مقصد نہ صرف ایک امریکی کمپنی کو مالی نقصان سے دوچار کرنا تھا بلکہ فنکاروں اور دیگر افراد کے رائے کے اظہار کی آزادی کو محدود کرنا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن تنظیموں پر امریکہ نے پابندی عائد کی ہے وہ تینوں حکومتی ادارے ہیں۔ ان اداروں میں شمالی کوریا کی مرکزی خفیہ تنظیم ریکونیسنس جنرل بیورو، شمالی کوریا میں اسلحے کی تجارت کی مرکزی کمپنی اور شمالی کوریا میں دفاعی ریسرچ کی مددگار کمپنی کوریا ٹنگن ٹریڈنگ کارپوریشن شامل ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ ادارے سائبر حملوں میں کیسے ملوث ہیں۔
خیال رہے کہ صدر اوباما نے اس سائبر حملے پر اپنے ردعمل میں پہلے ہی کہا تھا کہ ’ہم اس کا جواب دیں گے اور یہ جواب اسی حساب سے دیا جائے گا لیکن یہ ہماری پسند کے وقت اور جگہ اور طریقۂ کار کے تحت ہوگا۔‘
سونی پکچرز پر سائبر حملے کے بعد امریکہ کے الزام کے بعد شمالی کوریا نے ایک تند بیان میں وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور پورے امریکہ پر حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔







