گوانتانامو کے پانچ قیدیوں کی قزاقستان روانگی

گوانتانامو سے رواں سال 28 لوگوں کو رہائی ملی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگوانتانامو سے رواں سال 28 لوگوں کو رہائی ملی ہے

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق کیوبا میں قائم امریکی جیل گونتانامو میں قید پانچ قیدیوں کو تقریباً ایک دہائی بعد رہا کر کے آباد ہونے کے لیے قزاقستان بھیجا گیا ہے۔

پنٹاگون کا کہنا ہے ان میں سے تین قیدی یمن کے ہیں جبکہ دو تیونس کے باشندے ہیں جنھیں القاعدہ کے ساتھ منسلک ہونے کے شک میں پاکستان سے گرفتار کیا کيا تھا۔

امریکی حکام نے کہا کہ ان پر کبھی بھی فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی اور اب وہ خطرہ نہیں ہیں۔

حکام نے بتایا کہ اس قید خانے سے رواں سال 28 قیدی رہا کیے جا چکے ہیں اور صدر براک اوباما کے سنہ 2009 میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

یہ رہائی اس ضمن میں سامنے آئی ہے کہ صدر اس متنازع قید خانے کو بند کرنا چاہتے ہیں جو کہ 9/11 کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔

اس قید خانے کا قیام امریکہ پر حملے کے بعد کے آپریشن کے نتیجے میں ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناس قید خانے کا قیام امریکہ پر حملے کے بعد کے آپریشن کے نتیجے میں ہوا تھا

اس سے قبل اس ماہ کے اوائل میں چار افغان قیدیوں کی آبادکاری کی گئی تھی جبکہ چھ دوسرے قیدیوں کو یوروگوئے منتقل کیا گیا تھا۔

قزاقستان منتقل کیے جانے والے قیدیوں میں عاصم ثابت عبداللہ الخالقی (46 سالہ، یمن)، محمد علی حسین خنائنا (36 سالہ، یمن)، صابری محمد القریش (44 سالہ، یمن)، عادل الحکیمی (49 سالہ، تیونس) اور عبداللہ بن علی الطفی (48 سالہ، تیونس) شامل ہیں۔

پنٹاگون نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان رہائیوں کے بعد گوانتانامو کی جیل میں قیدیوں کی تعداد 127 رہ گئی ہے۔

اس میں کہا گيا ہے کہ ان پانچ قیدیوں کے معاملے کا جب انٹر ایجنسی ٹاسک فورس نے جائزہ لیا تو اتفاق رائے سے ان کی منتقلی کی بات کہی۔

ان میں اب مجموعی طور پر 127 قیدی بچے ہیں جن میں سے نصف کی رہائی منظور کی جا چکی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنان میں اب مجموعی طور پر 127 قیدی بچے ہیں جن میں سے نصف کی رہائی منظور کی جا چکی ہے

اس کے ساتھ ہی اس میں کہا گیا ہے کہ پہلی بار قزاقستان نے طویل مذاکرات کے بعد انھیں لینے کے لیے رضا مندی ظاہر کی ہے۔

بہرحال اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ انھیں ان کے آبائی وطن کیوں روانہ نہیں کیا گیا لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ بہت سے قیدیوں کو ان کے وطن اس لیے نہیں بھیجا جا سکتا کیونکہ وہاں حالات غیر محفوظ اور غیر مستحکم ہیں۔

واضح رہے کہ باقی ماندہ 127 قیدیوں میں سے نصف کی منتقلی منظور کی جا چکی ہے۔