پہلے سمجھے لوٹ مار ہے پھر پرچم نظر آیا۔۔۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلوی شہر سڈنی میں مارٹن پلیس کے لنٹ کیفے میں ایک مسلح شخص نے کئی لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
مسلح پولیس نے کیفے کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور ارد گرد کی کئی عمارتوں کو خالی کرایا لیا گيا ہے۔
اس علاقے میں موجود تین افراد نے جو دیکھا انھوں نے اسے یوں بیان کیا:
گلین كونلی، سینیئر پروڈیوسر/ رپورٹر، چینل 7 نیوز
کیفے ہمارے آفس کے بالکل سامنے ہے۔ ہمارے آفس کی کھڑکی سے لنٹ کیفے نظر آتا ہے۔
آفس کے ایک ساتھی نے دیکھا کہ کیفے میں کھڑکی کے سامنے ایک شخص ہاتھ اوپر کیے کھڑا ہے۔
ایسا محسوس ہوا کہ یہ اس کی مرضی کے خلاف ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
چند سیکنڈ بعد کئی لوگ اپنے ہاتھ اٹھائے کھڑے نظر آئے جبکہ ایک شخص ان کے پیچھے جا رہا تھا۔
مزید چند منٹ بعد کھڑکی کے پاس ایک سیاہ پرچم نظر آیا۔ پہلے ہم نے سوچا کہ یہ مسلح لوٹ مار کا واقعہ ہے، لیکن جب پرچم سامنے آیا تو پھر یہ لگا کہ ماجرا کچھ اور ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم اپنی بلڈنگ کے پچھلے حصے میں چلے گئے اور اس دوران پولیس بھی آ گئی اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
میں اپنے کیمرہ مین کے ساتھ پاس ہی کے ہسپتال کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہاں ہم کیفے سے تقریبا 100 میٹر دور تھے اور کیفے کے صدر دروازے پر نظر رکھ سکتے تھے۔
بندوق بردار نے کئی لوگوں کو کیفے میں یرغمال بنا رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
یرغمالیوں کو کیفے کے اندر ادھر ادھر چلایا جا رہا تھا۔ وہ پرسکون، تاہم خوفزدہ نظر آ رہے ہیں۔ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔
ہم ایک مسلح شخص کو بار بار دیکھ سکتے تھے۔ اس نے سفید شرٹ اور سویٹر پہن رکھا ہے، پیٹھ پر بیگ ہے اور کندھے پر بندوق لٹکی ہوئی ہے۔
پولیس نے مجھے پکڑ کر زبردستی وہاں سے ہٹا دیا۔ ہمیں پیچھے کر دیا گیا اور اب ہم صرف وہاں پولیس کی موجودگی دیکھ سکتے ہیں۔
سيوكسي فورڈ، پارٹنر، سڈنی لا فرم

،تصویر کا ذریعہAbby
میں لنٹ کیفے سے ایک گلی دور ایک عمارت میں ہوں۔ میں اپنی کھڑکی سے کیفے کا دروازہ دیکھ سکتی ہوں۔ ہمارے آفس کو بند کردیا گیا ہے۔
میں صبح نو بجے آفس پہنچی تھی کہ مجھے اپنی دوست سے فون پر پیغام ملا کہ وہ ٹی وی دیکھ رہی ہے اور جاننا چاہتی تھی کہ کیا وہ صحیح سلامت ہے۔
اس کے بعد میں نے پہلی بار کھڑکی سے باہر جھانکا اور دیکھا کہ پولیس لوگوں کوگلی سے باہر بھیج رہی تھی اور محاصرہ کر رہی تھی۔
وہاں بڑی تعداد میں سکیورٹی نظر آ رہی ہے اور ایک ایمبولنس بھی نظر آرہی ہے۔
اس عمارت کے نظام سے مسلسل اعلان کیا جا رہا ہے کہ لفٹ اور دروازے بند ہیں۔
ہمیں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ہم آفس سے باہر کب جا سکتے ہیں۔
ایبی ہیمفلنگ، ویلتھ مینیجمنٹ کمپنی میں پبلک رلیشن منیجر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
میرا آفس کیفے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ انھوں نے آفس کے باہر ناکہ بندی کر دی ہے۔
آس پاس کی عمارتوں کو خالی کرا دیا گیا ہے اور ہم آفس کے اندر بند ہیں۔
میں آفس کی صبح کی میٹنگ میں تھی کہ کوئی بھاگتا ہوا آیا اور مارٹن پلیس کے واقعے کے بارے میں بتایا۔
ہم جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے اور حقیقت کیا ہے۔ اسی درمیان، میرے ساتھی اور میں اپنی اپنی نشستوں پر واپس آئے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ہمارے فون بجنے شروع ہو گئے تھے۔ پیغام آ رہے تھے اور پوچھا جا رہا تھا کہ کیا ہم خیریت سے تو ہیں۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر مسلسل نشریہ سنا اور دیکھا جا رہا ہے۔ کام پر توجہ دینا مشکل ہے۔
میں امریکی ہوں، اس لیے میں 9/11 کی پوزیشن میں ہوں، حالانکہ اس واقعے کے وقت میری عمر بہت کم تھی۔ تب میں ہائی سکول میں پڑھتی تھی۔
مجموعی طور كنفیوژن کی حالت ہے۔ جیسے ہی فون کی گھنٹی بجتي ہے لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔







