فلپائن: سمندری طوفان تباہی چھوڑتا ہوا گزرگیا

،تصویر کا ذریعہEPA
فلپائن میں شدید سمندری طوفان اور جھکڑوں کی وجہ سے ملک کے مشرقی ساحلی علاقوں میں سینکڑوں درخت اور بجلی کے کھمبے زمین سے اکھڑ گئے ہیں۔
ٹائیفون ’ہگوپت‘ نامی اس سمندری طوفان سے بچاؤ کے لیے گذشتہ چند دنوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے ساحلی دیہاتوں کو چھوڑ کر ملک کے اندونی علاقوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ مشرقی فلپائن کے یہ ساحلی شہر گذشتہ برس بھی ٹائیفون ہیان کی زد میں آ ئے تھے اور کئی مقامات پر لوگ پچھلے سال کی تباہی کے بعد بمشکل اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔
ساحلی شہر تکلبان جہاں گذشتہ برس ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے تھے وہاں سنیچر کی رات شدید جھکڑ کی وجہ سے کئی مکانات کی چھتیں اڑ گئیں اور شہر کی گلیوں میں سیلاب آ گیا۔
تاہم ٹائیفون ہگوپت سے اتنا نقصان نہیں ہوا ہے جتنا یہاں کے لوگوں کو خدشہ تھا۔ ابھی تک کہیں سے کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
تکلبان سے 200 کلومیٹر شمال کی جنوب لگازپی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ ٹائیفون ہگوپت یقیناً ایک بڑا سمندی طوفان ہے تاہم یہ ٹائیفون ہیان کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلپائن کے سرکاری حکام کے مطابق اگرچہ ابھی دور دراز علاقوں میں ہونے والی کسی تباہی کا اندازہ کرنے میں وقت لگے، تاہم اس برس حکومت نے سمندی طوفان سے نمٹنے کے لیے بہتر انتظامات کر رکھے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حکام نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ چونکہ طوفان کے دوران اتنی زیادہ بارشیں نہیں ہوئیں اس لیے آئندہ دنوں میں مٹی کے تودوں کے سرکنے یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ کم ہے۔ تاہم حکام کا کہنا تھا کہ جھکڑ اتنے تیز ضرور تھے کہ کئی مقامات پر درخت اور مکانات گرگئے ہوں گے۔
مشرقی صوبے البے کےگورنر کا کہنا تھا کہ حکومت کے ٹائیفون ہیان سے ہونے والی تباہی سے یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ لوگوں کو طوفان آنے سے پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔’ چنانچہ اس مرتبہ ہم نے یہی کیا اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ طوفان میں کو ئی ہلاکت نہ ہوں، ہم نے ساحلی علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کو یقینی بنا لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’نقل مکانی کا عمل ایک دن میں مکمل نہیں ہوجاتا، اس کے لیے آپ کو لوگوں کی تربیت کرنا پڑتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس مرتبہ کہیں سے بھی کسی کے طوفان میں ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں آئے گی۔‘
تکلبان کے آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ فلپائن کے مشرقی ساحلی دیہاتوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو 29 مراکز میں رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ٹائیفون ہیان کو مقامی زبان میں لوگ ’یولینڈا‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور گذشتہ سال کا یہ سمندری طوفان ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا طوفان تھا جس میں ہلاک یا گُم ہو جانے والے افراد کی تعداد سات ہزار سے زیادہ تھی۔
ٹائیفون ہگوپت کا قطر 600 کومیٹر طویل تھا جس کے مطلب یہ ہے کہ فلپائن میں پانچ کروڑ لوگ یا ملک کی تقریباً نصف آبادی ان علاقوں میں رہ رہی ہے جو اس طوفان کی زد میں آ سکتے تھے۔







