’ہمیں طاقت میں دلچسپی نہیں قومی مفاد عزیز ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افریقی ملک برکینا فاسو میں فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایک عبوری حکومت قائم کریں گے۔
فوجی کی جانب سے یہ اعلان صدر بلاز کمپاؤرے کو معزول کرنے کے چند دن کے بعد کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دارلحکومت واگا ڈوگو میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔
یہ قدم فوج کی جانب سے ملک کے سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت پر فائرنگ کے بعد سامنے آیا جبکہ فوج نے مظاہرین کو روکنے کے لیے شہر کے مرکزی چوک کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا تھا۔
مظاہرین فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے جن میں سے کم از کم ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے بھی فوج کے اقتدار پر قبضے کی مذمت کرتے ہوئے پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔
گذشتہ تین دہائیوں کے قریب عرصے سے بر سرِ اقتدار صدر بلاز کمپاؤرےنے حکومت کے خلاف مظاہروں کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
اس کے بعد مسلح افواج نے لیفٹیننٹ کرنل یعقوب اسحاق ضدا کو عبوری حکمران کے طور پر منتخب کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اگرچہ ہزاروں افراد نے اتوار کو دارالحکومت میں فوج کے خلاف مظاہرہ کیا جبکہ اتوار کو ایک اجلاس کے بعد حزبِ اختلاف کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک فوجی ترجمان نے اعلان کیا کہ وسیع مشاورت کے بعد عبوری انتظامیہ کو مقرر کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کی جانب سے فرانسیسی زبان میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طاقت میں ہماری دلچسپی نہیں ہے ہمیں قوم کا وسیع مفاد عزیز ہے۔‘
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنا ضروری تھا تاکہ ’امن قائم کیا جا سکے‘ اور اسی میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایک شحض ٹی وی سٹیشن کے باہر مظاہرے میں ہلاک ہوا ہے۔
اتوار کو ٹی وی سٹیشن کے باہر افراتفرای کے مناظر تھے جب حزبِ اخلتاف کے رہنما سارن سیریمی اور سابق وزیرِ دفاع کوامی لوغ جلوس میں پہنچے۔
یہ سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں علیحدہ علیحدہ وہاں پہنچے تاکہ اعلان کر سکیں کہ وہ عبوری حکومت کی قیادت کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اگرچہ ان کی آمد کے فوری بعد فائرنگ شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں ٹی سٹیشن کا عملہ اور مظاہرین منتشر ہو گئے۔
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس سے پہلے صحافیوں کو نکلنے پر مجبور کیا گیا۔
قومی ٹی وی سٹیشن نے چند گھنٹے بعد نشریات دوبارہ شروع کر دیں جبکہ فوج نے مرکزی چوک پیلا ڈی لا نیسیوں کو مظاہرین سے خالی کروا لیا۔
بی بی سی کی نامہ نگار لیلا اجوی نے واگ ڈوگو سے اطلاع دی کہ بوہت سے مظاہرین فوج سے ناراض ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ حالیہ تشدد معزول صدر کے محافظوں نے نگران کرنل ضدا کی وجہ سے ہے۔
فوج اور حزبِ اخلاف کے درمیان مذاکرات میں کئی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے تاہم مس ساریمی مذاکرات کے آغاز کے قبل ہی چلی گئیں اور اس بات کے بارے میں کوئی پتا نہیں کہ کن موضوعات پر بات ہوئی۔
گذشتہ ہفتے جب صدر بلاز کمپاؤرے نے آئین میں ترمیم کے ذریعے اقتدار پر اپنے قبضے کو طوالت دینے کی کوشش کی تو اُن کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں اُن کے 27 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا۔
جمعرات کو مظاہرین نے دارالحکومت واگاڈوگو میں پارلیمان اور حکومتی عمارتوں کو آگ لگا دی تھی۔
ملک کے آئین کی رو سے سینیٹ کا صدر ملک کے صدر کے استعفے کی صورت میں حکومت کا انتظام سنبھالتا ہے اور 60 سے 90 دنوں میں انتخاب کا انعقاد کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP


،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہap
لیفٹیننٹ کرنل ضدا کے سامنے آنے سے قبل مبصرین کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے تک فوج کے اندر اقتدار کی کشمکش چلتی رہی جس کے بعد فوج کا بیان سامنے آیا جس پر فوج کے سربراہ جنرل اونورے ٹرورے نے دستخط کیے تھے جنہوں نے صدر کمپاؤرے کے جانے کے فوری بعد اپنے آپ کو ریاست کا سربراہ قرار دیا تھا۔
بلاز کمپاؤرے نے 1987 میں صدر تھامس سنکارا کی فوجیوں کے ایک گروپ کے ہاتھوں پراسرار ہلاکت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے دور اقتدار میں پہلے صدارتی انتخابات سال 1991 میں جب کہ دوسرے 1998 میں منعقد ہوئے تھے۔







