ایبولا بحران: اقوامِ متحدہ کی عطیات کے لیے ایک اور اپیل

ایبولا کے ہاتھوں اب تک ساڑھے چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کی بڑی اکثریت کا تعلق مغربی افریقی ملکوں سے ہے

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنایبولا کے ہاتھوں اب تک ساڑھے چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کی بڑی اکثریت کا تعلق مغربی افریقی ملکوں سے ہے

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایبولا کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فنڈز کے حصول لیے ایک اور اپیل کی ہے۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی اس مقصد کی خاطر سرمایہ اکٹھا کرنے کی مہم کو ہدف سے کم کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ انھوں نے ستمبر میں ایک ارب ڈالر کا فنڈ شروع کیا تھا لیکن اب تک اسے صرف ایک لاکھ ڈالر مل پائے ہیں۔

ان کے علاوہ دوسرے بین الاقوامی رہنماؤں نے بھی ایبولا کے سدباب کے لیے ہونے والی عالمی کوششوں پر تنقید کی ہے۔

اس بیماری سے اب تک ساڑھے چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی بڑی اکثریت کا تعلق لائبیریا، گنی اور سیئرا لیون سے ہے۔

عطیہ کنندگان نے اقوامِ متحدہ کے دوسرے اداروں کو 40 کروڑ ڈالر دیے ہیں، لیکن ادارے کے خصوصی ایبولا فنڈ کے لیے اب تک صرف دو کروڑ ڈالر کی ضمانتیں موصول ہوئی ہیں۔

ان میں سے صرف کولمبیا نے اب تک ایک لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔

ایبولا کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈیوڈ نیبارو نے کہا کہ فنڈ کا مقصد ’ایک ایسے بحران سے نمٹنے کے لیے لچک فراہم کرنا ہے جو ہر روز نئے چیلنج لے کر آتا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس سے ہمیں شعبوں کی شناخت اور انھیں اسی حساب سے رقوم فراہم کی جا سکیں گی۔‘

بان کی مون نے کہا کہ یہ ’استطاعت‘ رکھنے والے ملکوں کے لیے موقع ہے کہ وہ مالی اور انتظامی مدد فراہم کریں۔

امریکی صدر براک اوباما، برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم بھی اسی قسم کی اپیلیں کر چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’بین الاقوامی برادری کے ردِ عمل سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ بحران کسی اور خطے میں پیدا ہوا ہوتا تو اس سے مختلف طریقے سے نمٹا جاتا۔

’دراصل اگر آپ اس بحران کے ارتقا کو دیکھیں تو بین الاقوامی برادری صرف اسی وقت جاگی جب یہ مرض امریکہ اور یورپ پہنچا۔‘