’ایبولا سے نمٹنے کے لیے 15 ممالک پر خصوصی توجہ‘

،تصویر کا ذریعہEPA
عالمی ادارہ صحت کی ڈاکٹر ازابیل نٹال کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 15 ممالک پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر ازابیل کا کہنا ہے کہ ان 15 ممالک کا انتخاب اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ ان کی یا تو سرحدیں ایبولا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین ممالک لائبیریا، سیرالیون اور گنی سے ملتی ہیں یا ان کے ان تینوں ممالک سے خاطر خواہ تجارتی تعلقات ہیں۔
جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایبولا وائرس ہر چار ہفتے میں دگنا ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے مہینوں درکار ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین کے وزرا برائے صحت کا اجلاس برسلز میں ہوا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مسافروں کی سکریننگ پر نظرثانی کی جائے جو ایبولا سے متاثر ممالک سے آ رہے ہیں۔
دریں اثنا سپین میں حکام کا کہنا ہے کہ ایئر فرانس کے جہاز پر ایبولا کے مریض کے خدشے کے باعث میڈرڈ کے ہوائی اڈے پر اس جہاز کو الگ جگہ کھڑا کردیا گیا ہے اور ایمرجنسی طبی عملے کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
سپین کی ایئر پورٹ اتھارٹی کی ترجمان کے مطابق یہ جہاز پیرس سے آیا ہے اور اس جہاز میں موجود 183 مسافروں کو جہاز سے اترنے نہیں دیا جا رہا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں صحت کے مضبوط نظام کی وجہ سے ایبولا کی بڑی وبا پھوٹنے کا خطرہ بہت کم ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر آف سٹریٹجی کرسٹوفر ڈائی نے کہا کہ اگرچہ ایبولا کی وبا پھوٹ پڑنے کا ’خطرہ بہت سنگین‘ ہے لیکن ’ہمیں اطمینان ہے کہ امریکہ اور مغربی یورپ میں صحت کا نظام بہت مضبوط ہے، اس سے وہاں کسی بڑی وبا کا امکان بہت کم ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس پر قابو پانے کی دوڑ میں دنیا پیچھے رہ رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اب تک ایبولا سے دنیا بھر میں 4,447 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ ہلاکتیں مغربی افریقہ میں ہوئی ہیں۔







