امریکہ میں ایک اور شخص ایبولا سے متاثر

تھامس ایرک ڈنکن

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندوسرے متاثرہ شخص نے بھی لائبیریا کے باشندے ٹامس ڈنکن کا علاج کیا تھا

امریکہ کی ریاست ٹیکسس میں حکام کا کہنا ہے کہ وہاں ایک اور طبی اہلکار ایبولا کے وائرس سے متاثر ہو گیا ہے۔

ریاست میں پہلے ہی ایک امریکی نرس اس وائرس سے متاثر ہو چکی ہے۔

ان دونوں طبی اہلکاروں نے افریقی ملک لائبیریا سے تعلق رکھنے والے ٹامس ڈنکن نامی شخص کا علاج کیا تھا

ٹامس ڈنکن وہ پہلے شخص تھے جن کے امریکہ میں ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی اور وہ گذشتہ ہفتے انتقال کر گئے تھے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس پر قابو پانے کی دوڑ میں دنیا پیچھے رہ رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اب تک ایبولا سے دنیا بھر میں 4,447 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ ہلاکتیں مغربی افریقہ میں ہوئی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مزید ایسے 48 افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن کا لائبیریا کے باشندے ٹامس ڈنکن سے رابطہ ہوا تھا یا وہ ان کا علاج کرنے والوں میں شامل تھے۔

حکام نے تاحال ایبولا کے تازہ ترین امریکی مریض کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے لیکن حکام نے یہ ضرور بتایا ہے کہ وہ بھی ٹامس ڈنکن کی دیکھ بھال کرنے والے طبی عملے کے رکن تھے۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکام نے 26 سالہ نرس نینا فام کے بارے میں بتایا تھا کہ انھیں یہ مرض ڈیلس کے ایک ہسپتال میں اس وقت لگا جب وہ لائبیریا کے باشندے ٹامس ڈنکن کا علاج کر رہی تھیں۔

منگل کو ہیلتھ پریسبیٹیریئن ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ نینا فام کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ابھی تک دوسرے طبی کارکن کی شناخت نہیں ظاہر کی گئی۔ تاہم اس شخص نے بھی ہسپتال میں ٹامس ڈنکن کا علاج کیا تھا۔

ٹیکسس کے محکمۂ صحت نے کہا ہے کہ منگل کو جب طبی عملے کے اس رکن کو بخار میں مبتلا دیکھا گیا تو انھیں فوراً الگ کر دیا گیا۔

محکمۂ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکام نے متاثرہ اہلکار سے فوری رابطہ کر کے ان تمام افراد کے بارے میں معلومات لی ہیں جن سے اس کا رابطہ رہا ہے اور جو ممکنہ طور پر اس وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں