میکسیکو میں ایک اجتماعی قبر کی دریافت

طلبا کا یہ گروہ اساتذہ کے حقوق کے لیے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لیے گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنطلبا کا یہ گروہ اساتذہ کے حقوق کے لیے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لیے گیا تھا

میکسیکو میں حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اگیوالا قصبے کے نواح میں ایک اجتماعی قبر ملی ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں 26 ستمبر کو 43 طلبا لاپتہ ہو گئے تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ملنے والی لاشیں انھی طلبا کی ہیں یا نہیں جنھیں آحری مرتبہ پولیس کی وین میں زبردستی بھرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

طلبا کا یہ گروہ اساتذہ کے حقوق کے لیے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لیے گیا تھا۔

پولیس نے ان پر گولیاں چلا دیں جس میں کم سے کم چھ طلبا ہلاک ہو گئے تھے۔

اس فائرنگ سے تعلق کے الزام میں 22 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بچ جانے والے تمام طلبا جو کہ زیرِ تربیت اساتذہ تھے کو لاپتہ ہونے سے قبل پولیس کی گاڑیوں میں زبردستی لے جایا گیا۔

پولیس اگیوالا میں ان لاپتہ 43 طلبا کی کوتلاش کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس اگیوالا میں ان لاپتہ 43 طلبا کی کوتلاش کر رہی ہے

ان میں سے بعض اس واقعے کے بعد چھپ گئے تھے اور بہت دنوں کے بعد انھوں نے گھر والوں سے رابطہ کیا۔ انھیں تب بھی جان کا خطرہ تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایک گمنام شخص کی جانب سے نشاندہی کیے جانے پر یہ اجتماعی قبر سنیچر کو دریافت کی گئی۔

حکام فورسنسک جانچ سے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ لاشیں کس کی ہیں۔

لاپتہ ہونے والے بعض طلبا کے ورثا بھی اس تلاش میں شامل ہو گئے ہیں اور گھر گھر جا کر لوگوں کو تصاویر دکھا کر اپنے پیاروں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔

ریاست کے استغاثہ کے مطابق مقامی حکام اور پولیس افسران کے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ تعلقات ہیں۔

اگیوالا قصبے کے میئر کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس اور حکام کے جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس اور حکام کے جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں