میکسیکو میں استحصال کے شکار بچے بچا لیے گئے

میکسیکو میں پولیس نے کہا ہے کہ اس نے میچواکن صوبے کے زمورا شہر میں ایک یتیم خانے سے 450 سے زیادہ بچوں کو بچا لیا ہے۔
پولیس کے مطابق وہاں ان بچوں کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا اور انھیں سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یتیم خانے کے مالک کے علاوہ اس کے دیگر آٹھ ملازموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
نمائندوں کا کہنا ہے کہ میکسیکو کے چلڈرن ہاؤسز میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بچوں کے استحصال کا یہ بدترین واقعہ ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس یتیم خانے میں 278 لڑکے، 174 لڑکیاں اور تین سال سے کم عمر کے چھ بچے رہتے تھے۔
حکومت نے مزید کہا کہ ان کے علاوہ اس ادارے سے 40 سال کی عمر تک کے 138 بالغوں کو بھی بچایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
اطلاعات کے مطابق اس بگ ہاؤس میں رہنے والے بچوں کو انتہائی خراب حالت میں رکھا جا رہا تھا۔ مقامی گورنر سلواڈور جارا نے کہا: ’اس گھر میں ہم نے جو خراب حالات دیکھے ہمیں ان کی توقع نہیں تھی۔ میں اس سے بہت مایوس ہوا ہوں۔‘
دا ہاؤس آف دا بگ فیملی نامی بچوں کا یہ گھر گذشتہ 40 سال سے کام کر رہا تھا اور مقامی طور پر ’ماما روزا‘ کے گھر کے نام سے جانا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس گھر اور اس کے مالک کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
حکام نے اس وقت اس گھر کے بارے میں تفتیش شروع کی جب بچوں کے والدین نے شکایت کی انھیں بچوں سے ملنے نہیں دیا جاتا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ایک خاتون جو اسی گھر میں پلی بڑھیں، انھوں نے وہاں دو بچوں کو جنم دیا، لیکن جب 31 سال کی عمر میں انھوں نے یہ گھر چھوڑا تو انھیں اپنے بچوں کو ساتھ نہیں لے جانے دیا گیا۔







