جنسی استحصال: ویٹیکن کا اقوامِ متحدہ کو معلومات دینے سے انکار

ویٹیکن نے اقوامِ متحدہ کو پادریوں، راہباؤں اور بھکشوؤں کے ہاتھوں بچوں کے مبینہ جنسی استحصال کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ویٹیکن کا کہنا ہے کہ ان معاملات کی تحقیقات ان ممالک کے نظامِ قانون کی ذمہ داری ہے جہاں یہ پیش آئے تھے۔
برطانیہ کی قومی سیکیولر سوسائٹی نے ویٹیکن پر قوانین کی آڑ میں چھپنے کا الزام عائد کیا ہے۔
رواں برس مارچ میں اپنے انتخاب کے بعد پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ جنسی استحصال کے معاملے سے نمٹنا کلیسا کی ساکھ کے لیے کلیدی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال نے رواں برس جولائی میں رومن کیتھولک عیسائیوں کے مرکز ویٹیکن کے سفارتی ادارے ’ہولی سی‘ کو ایک سوالنامہ ارسال کیا تھا جس میں 1995 سے اب تک ویٹیکن کے علم میں لائے جانے والے جنسی استحصال کے واقعات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
اس سوالنامے میں شامل سوالات میں پوچھا گیا تھا کہ آیا جنسی استحصال کے ملزم پادریوں، راہباؤں اور بھکشوؤں کو بچوں سے رابطے میں رہنے کی اجازت دی گئی اور یہ کہ ان افراد کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی گئی۔
اپنے جواب میں ’ہولی سی‘ نے اصرار کیا ہے کہ وہ رومن کیتھولک چرچ سے ’الگ اور مختلف‘ ہیں اور وہ مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں کے بارے میں صرف اسی صورت میں معلومات فراہم کرتے ہیں جب یہ ان ممالک کے حکام کی جانب سے طلب کی گئی ہوں جہاں وہ کام کر رہے ہیں۔
ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب پادریوں کے چناؤ کا طریقۂ کار تبدیل کیا جا چکا ہے اور انھیں ضابطۂ اخلاق کا پابند بنانے کے لیے کلیسا کے قانون پر بھی نظرِ ثانی کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی قومی سکیولر سوسائٹی نے اس جواب پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں گرجا گھروں پر ’ہولی سی‘ کا منظم کنٹرول ہے۔
خیال رہے کہ بچوں کے جنسی استحصال سمیت دیگر معاملات پر ویٹیکن کے حکام جنوری میں اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے پیش ہوں گے۔
رومن کیتھولک عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ ویٹیکن کو ’جنسی استحصال کے معاملے پر فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اس سے قبل ان کے پیشرو پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے کلیسا کو پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کی ’گندگی‘ سے پاک کرنے کا عہد کیا تھا۔







