تازہ ویڈیو: ’بوکو حرام کے سربراہ ابو بکر شکاؤ زندہ ہیں‘

سکیورٹی ماہرین ملک کی فوج کی ساکھ کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی ماہرین ملک کی فوج کی ساکھ کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں

ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شکاؤ کو زندہ دکھایا ہے جنھیں ملک کی فوج نے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ویڈیو میں ابوبکر شکاؤ نے کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے گذشتہ تین ہفتوں سے لاپتہ قومی فضائیہ کے جٹ طیارے کو مار گرایا ہے۔

پچھلے ہفتے نائجیریا کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ شخص جو ویڈیوز میں بوکو حرام کے رہنما کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنے والے شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اگست سنہ 2013 میں بھی فوج نے کہا تھا کہ ابوبکر شکاؤ شاید مر چکے ہونگے۔

سکیورٹی ماہرین ملک کی فوج کی ساکھ کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

نائجیریا کے صحافی احمد سالکیدا نے جن کے بوکو حرام کے ساتھ اچھے ربطے ہیں، گذشتہ ہفتے ٹویٹ کیا تھا کہ ’وہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ابوبکر شکاؤ کی صحت اچھی ہے اور وہ زندہ ہیں۔‘

یہ واضح نہیں کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو موصول ہونے والی یہ ویڈیو کہاں پر بنائی گئی لیکن بی بی سی کے ہسہ سروس کے مدیر منصور لیمان کہتے ہیں کہ تازہ ویڈیو میں جو شخص بات کر رہے ہیں یہ وہی جو بوکو حرام کے دیگر ویڈیوز میں نظر آتے تھے۔

ویڈیو میں ایک داڑھی والا شخص ایک پک اپ کے پچھلے حصے میں کھڑے ہیں اور وہ اینٹی ایئر کرافٹ گن چلا رہے ہیں۔

انھوں نے نائجیریا کی فوج کا ان کو مردہ قرار دینے کا مذاق اْڑایا اور ان کے اردگرد بھار اسلحہ سے مسلح افراد تھے۔

نائجیریا کی فوج نے حال ہی میں بوکو حرام کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے۔ فوج نے بورنو ریاست کے دارالحکومت میدیوگیوری کے قریب کوندیوگا کو شدت پسندوں کے تسلط سے آزاد رکھا۔

لیکن قصبے اور دیہات اب بھی شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔