نائجیریا: بوکو حرام کا دمباؤ شہر پر ’قبضہ‘

،تصویر کا ذریعہAFP
نائجیریا کے اسلام پسند جنگجو گروپ بوکو حرام نے شمال مشرقی نائجیریا کے اہم شہر دمباؤ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
یہ بات تحفظِ امن کے ایک مقامی کارکن نے بی بی سی کو بتائی۔
انھوں نے بتایا کہ شہر کی حفاظت پر تعینات مقامی محافظ اتوار کو شہر چھوڑ کر بھاگ نکلے اور اب شہر میں اسلامی گروپ بوکو حرام کا سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔
اس رہنما نے مزید بتایا کہ بوکو حرام نے جمعے کو دمباؤ شہر پر حملہ کیا تھا جس میں کم از کم 40 افراد مارے گئے۔
واضح رہے کہ یہ جنگجو گروہ سنہ 2009 سے نائجیریا میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے برسرِ پیکار ہے۔
رواں سال اپریل میں اس گروہ نے بورنو صوبے کے چیبوک شہر کے ایک اقامتی سکول سے 200 سے زیادہ طالبات کو اغوا کر کے عالمی پیمانے پر غم و غصے کو بھڑکا دیا تھا۔
یہ طالبات ابھی تک ان کے قبضے میں ہیں اور ان کی رہائی کے بارے میں حکومتی کوششیں ناکام رہی ہیں۔
دارالحکومت ابوجا میں بی بی سی کے نمائندے کرس ایوکور کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بوکو حرام نے چند قصبوں اور شہروں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن فوج نے انھیں وہاں سے نکال دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوج دمباؤ کو پھر سے اپنے قبضے میں لینے کے لیے کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ دمباؤ بورنو صوبے کے اہم ترین تجارتی شہروں میں سے ایک ہے اور علاقے کی اہم منڈی ہے۔
نائجیریا کے فوجی ترجمان کرس اولوکولادے نے کہا ہے کہ ’سرکاری افواج اس علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ملک بوکو حرام کو کوئی بھی حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر صوبے میں تباہ ہو گيا ہے۔ تاہم انھوں نے اس میں ہلاکتوں کی تفصیل نہیں بتائی۔
ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ دمباؤ پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ میں بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میڈوگوری کی بجلی معطل ہے۔
دمباؤ دارالحکومت میڈوگوری سے 85 کلومیٹر کے فاصلے ہے اور یہ بوکو حرام کا ہیڈکوارٹر تصور کیا جاتا ہے جہاں سے گذشتہ سال فوج نے انھیں نکال دیا تھا۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے نائجیریا میں کہ رواں سال 95 حملوں میں تقریباً دو ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔







