نائجیریا میں شدت پسندوں کے دیہاتوں پر حملے

،تصویر کا ذریعہAFP
نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدت پسند تنظیم باکو حرام کے جنگجوؤں نے کئی دیہات پر حملے کیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان حملوں میں مبینہ طور پر 10 افراد مارے گئے ہیں تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بعض مقامی رہائشیوں کے مطابق شدت پسندوں نے گرجا گھروں پر بھی حملے کیے ہیں۔
شدت پسندی کی تازہ کارروائیاں بورنو ریاست کے علاقے چیبوک کے قریب پیش آئی ہیں۔
اس علاقے سے بوکوحرام کے شدت پسندوں نے اپریل میں سکول کی 200 سے زائد طالبات کو اغوا کر لیا تھا جو تاحال ان کے پاس قید ہیں۔
بوکو حرام ان لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اپنی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ اس واقعے کے بعد بوکو حرام کی کارروائیاں بین الاقوامی تشویش کا باعث بنی ہیں۔
اس سے پہلے چند روز پہلے دارالحکومت ابوجا میں ایک مصروف بازار میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں 21 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہو گئے تھے۔
بوکو حرام نے پہلے بھی ابوجا میں حملے کیے ہیں تاہم ان کی کارروائیوں کا مرکز ملک کا شمال مشرقی علاقہ رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپریل میں دارالحکومت کے نواحی علاقے میں ایک بس اڈے پر بم حملے میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بوکو حرام نے قبول کی تھی۔
بوکو حرام نے نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے سنہ 2009 سے پرتشدد کارروائیاں شروع کی ہیں جن میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







