لائبیریا: ایبولا کے 17 مریض ڈھونڈ لیے گئے

لائبیریا کے ایک وزیر نے بتایا ہے کہ صحت کے مرکز پر حملہ خوف کے نتیجے میں کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنلائبیریا کے ایک وزیر نے بتایا ہے کہ صحت کے مرکز پر حملہ خوف کے نتیجے میں کیا گیا تھا

افریقی ملک لائبیریا میں ایک وزیر کا کہنا ہے کہ دارالحکومت منروویا میں ان 17 مشتبہ مریضوں کو تلاش کر لیا گیا ہے جو ایک صحت کے مرکز پر حملے کے نتیجے میں لاپتہ ہو گئے تھے۔

لوئس براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ڈھونڈ لیا گیا ہے اور ’انھوں نے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر دیا۔‘

حکومت نے اس سے قبل اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ گمشدہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے نئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1229 افراد اس مرض کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں اس سال کے آغاز سے جس کے نتیجے میں سیئرالیون، گنی اور نائجیریا بھی متاثر ہوئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ 14 سے 16 اگست کے درمیان 84 اموات رپورٹ کی گئیں۔

مغربی افریقہ میں ایبولا کا مرض اب تک کا سب سے تباہ کن مرض ہے جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس مرض کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا۔

پولیس اور سکیورٹی فورسز کو اب تک ملک میں خاصی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپولیس اور سکیورٹی فورسز کو اب تک ملک میں خاصی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے
اس حملے کے بعد سے سکیورٹی فورسز نے صحت کے مختلف مراکز کی سکیورٹی بڑھا دی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناس حملے کے بعد سے سکیورٹی فورسز نے صحت کے مختلف مراکز کی سکیورٹی بڑھا دی ہے