ایبولا بحران: لائبیریا کے طبی مرکز سے 17 مریض فرار

اتوار کو پولیس نے دارالحکومت مونروویا میں مظاہرین کے خلاف ہوا میں فائرنگ بھی کی لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آيا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناتوار کو پولیس نے دارالحکومت مونروویا میں مظاہرین کے خلاف ہوا میں فائرنگ بھی کی لیکن اس کا کوئی اثر نظر نہیں آيا

مغربی افریقی ملک لائبیریا کے دارالحکومت مونروويا میں ایبولا کے علاج کے لیے مخصوص ایک طبی مرکز کو حملہ کر کے لوٹ لیا گیا ہے، اور وہاں سے 17 مریض فرار ہو گئے ہیں۔

فرار ہونے والے مریضوں کے بارے میں متضاد قسم کی اطلاعات ہیں۔ سنیچر کی شام ایک مشتعل ہجوم نے اس مرکز پر حملہ کر دیا تھا۔

دوسری جانب شہر کی گھنی آبادی والے ویسٹ پوائنٹ علاقے میں سینکڑوں لوگوں نے ’یہاں ایبولا نہیں ہے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے مظاہرہ کیا ہے۔

لائبیریا کے نائب وزیر صحت ٹولبرٹ نوینسواہ نے کہا کہ مظاہرین اس بات سے ناراض تھے کہ یہاں جن مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے وہ یہاں کے نہیں ہیں بلکہ دارالحکومت کے باہر سے لائے جا رہے ہیں۔

ٹولبرٹ نے کہا کہ علاج کے مرکز پر حملے کے بعد 29 مریضوں کو جان ایف کینیڈی میموریل میڈیکل سینٹر میں قائم مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انھیں بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایک نامہ نگار نے بی بی سی کو بتایا کہ 17 افراد طبی کیمپ سے فرار ہو گئے، جبکہ دس دیگر لوگوں کو ان کے لواحقین اپنے ساتھ لے گئے۔

حملے کی ایک عینی شاہد ریبیکا ویسیا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’انھوں نے دروازہ توڑ کر اس ہیلتھ سینٹر کو لوٹ لیا اور سارے مریض وہاں سے فرار ہو گئے۔‘

اطلاعات کے مطابق بھیڑ اس لیے بھی مشتعل تھی کہ ان کے علاقے میں ایبولا کے علاج کے لیے مرکز قائم کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق بھیڑ اس لیے بھی مشتعل تھی کہ ان کے علاقے میں ایبولا کے علاج کے لیے مرکز قائم کیا گیا ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق لائبیریا میں ایبولا وائرس کے انفیکشن سے 400 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، اور اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر اس وائرس کے انفیکشن سے 1145 لوگ مارے گئے ہیں۔

لاگوس سے ہمارے نامہ نگار ول راس نے کہا ہے کہ مونروویا کے حملے کو ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی راہ میں بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے لائبیریا میں روکا جائے جہاں اس مہلک وائرس کے بارے میں لوگوں میں کم معلومات ہیں اور بہت سے لوگ ڈاکٹروں کے ساتھ تعاون کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ایبولا جسمانی رطوبتوں سے پھیلتا ہے جیسے پسینہ، خون وغیرہ، اور ابھی تک اس کا کوئی علاج نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایبولا جسمانی رطوبتوں سے پھیلتا ہے جیسے پسینہ، خون وغیرہ، اور ابھی تک اس کا کوئی علاج نہیں ہے

ایبولا کا وائرس فروری میں مغربی افریقی ملک گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیئرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔

جنیوا میں عالمی ادارۂ صحت کی سربراہ جوان لیو نے کہا کہ اگرچہ گنی ابتدائی طور پر ایبولا کا مرکز تھا، مگر اب وہاں اس کے پھیلاؤ میں کمی آ رہی ہے اور اب توجہ دیگر ممالک خصوصاً لائبیریا پر مرکوز ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم لائبیریا میں حالات پر قابو نہ پا سکے تو خطے کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔‘