اسرائیل جانے والی پروازوں کی معطلی میں توسیع

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ اور یورپی ایئر لائنز نے اسرائیل کے بین گوریان ہوائی اڈے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر راکٹ گرنے کے بعد اسرائیل کے لیے اپنی پروازوں کو دوسرے دن کے لیے بھی معطل کر دیا ہے۔
امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف ایف اے) نے تین امریکی فضائی کمپنیوں ڈیلٹا، یونائٹیڈ اور یو ایس ایئر ویز کی اسرائیل کے لیے پروازوں پر مزید 24 گھنٹوں کی توسیع کر دی ہے۔
یہ پابندی منگل کو عائد کی گئی تھی جس میں آج مزید 24 گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے پابندی ہٹانے یا نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دریں اثنا فرانس اور جرمن ایئر لائنز نے بھی اسرائیل اور غزہ میں خطرناک صورتِ حال کے پیش نظر تل ابیب جانے والی مزید پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ وہ بغیر کسی نوٹس کے ایسی پروازوں کو معطل کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایف اے اے نے یہ پابندی منگل کو عائد کی گئی تھی جس میں بدھ تک توسیع کی گئی ہے۔
جرمن لفت ہانزا اور ایئر برلن نے بھی اسرائیل کے لیے اپنی پروازوں کو جعمرات تک منسوخ کر دیا ہے۔
لفت ہانزا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پروازوں کی منسوخی کا اطلاق آسٹرین ایئر لائنز، سوئس اور برسلز ایئر لائنز سمیت اس کے ماتحت اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب برٹش ایئر ویز کا کہنا ہے کہ خطے میں اس کی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہے گی اور اس کا پروازں کی منسوخی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو نے امریکی فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے امریکی پروازوں کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے ایف ایف اے کی جانب سے عائد کی گئی پابندی ختم کروانے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری سے مدد مانگی تھی۔
اسرائیل کی ٹرانسپورٹیشن وزارت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بین گوریان کا ہوائی اڈا محفوظ ہے اور اس کی مکمل حفاظت کی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے پروازوں کی معطلی کی کوئی وجہ نہیں اور ایسا کرنا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہو گا۔
ادھر نیو یارک کے سابق گورنر مائیکل بلوم برگ اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یکجتی کے لیے منگل کی شام تل ابیب پہنچے۔







