سکیورٹی کونسل کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

سلامتی کونسل نے ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسلامتی کونسل نے ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کا مطالبہ غزہ میں اتوار کو تقریباً 100 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی طرف سے غزہ پر فضائی حملوں کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 501 ہوگئی ہے جبکہ ان حملوں میں 3135 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک قرارداد کے مسودے پر بند کمرے میں اجلاس ہوا جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

<link type="page"><caption> بان کی مون کی ثالثی کی کوشش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/07/140719_israel_palestine_gaza_obama_concern_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

اجلاس میں سلامتی کونسل نے غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری بھی غزہ کی صورتحال پر مصری رہنماؤں سے بات چیت کے لیے پیر کو قاہرہ پہنچ رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اْردن کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اْردن نے اجلاس کے دوران ایک سخت قسم کی قرارداد کا مسودہ پیش کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ میں روانڈا کے سفیر ایکوین گزانا نے کہا کہ سلامتی کونسل نے اجلاس میں بڑھتے ہوئے تشدد پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کی زمینی کارروائی کے نتیجے میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی باشندوں نے پناہ مانگی ہے: اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناسرائیل کی زمینی کارروائی کے نتیجے میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی باشندوں نے پناہ مانگی ہے: اقوام متحدہ

انھوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کے اراکان نے ’ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کا احترام کرنے اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کو کہا ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے شجائیہ کے رہائشی علاقے پر شدید بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی67 ہلاکتوں کی شدید مذمت کی تھی۔

اتوار کو اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کم از کم 100 افراد مارے گئے جن میں سے67 افراد شجائیہ میں ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عام شہری ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے دوران اس کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

بان کی مون نے کہا تھا کہ اسرائیل کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور تشدد کو فوری طور پر روکنا چاہیے، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے شجائیہ میں ہونے والی اموات ’قتل عام‘ قرار دیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے ایک خطاب میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک اسرائیلی سکیورٹی بحال نہیں ہو جاتی۔

اتوار کی شام کو حماس نے ایک اسرائیلی فوجی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہی ہیں جبکہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے حماس کےدعوے کو رد کر دیا تھا۔

غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہg

،تصویر کا کیپشنغزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جاری ہیں

فلسطین کے طبی ذرائع کے مطابق تازہ ترین اموات غزہ شہر سے مشرق کی جانب واقع شجائیہ کے علاقے میں ہوئیں جبکہ عینی شاہدین کے مطابق اِس علاقے میں لاشیں گلیوں اور سڑکوں پر پڑی ہوئی تھیں۔

غزہ میں فلسطینی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ آپریشن کے 13ویں روز اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری اب تک کی شدید ترین بمباری تھی۔

غزہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے زمینی، فضائی اور بحری کارروائی میں بمباری اتنی شدید ہے کہ ایمبولینسوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں مظاہرے جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے نتیجے میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی باشندوں نے پناہ مانگی ہے۔