بغداد میں 20 عورتوں سمیت 29 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
عراق میں حکام کے مطابق مسلح افراد نے ملک کے دارالحکومت بغداد میں دو عمارتوں میں گھس کر کم از کم 29 افراد کو ہلاک کیا ہے جس میں 20 عورتیں بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ حملہ سنیچر کو دیر سے بغداد کے مشرقی علاقے زیونہ میں کیا گیا۔ ایک افسر نے کہا کہ انھوں نے ہر طرف لاشیں بکھری پڑی دیکھیں۔
کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی اور اس واردات کے محرکات کا بھی ابھی تک معلوم نہیں ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ عمارتیں قحبہ خانے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان عمارتوں میں سے ایک کے دروازے پر لکھا گیا تھا کہ ’جسم فروشی کا یہی انجام ہوگا۔‘
زیونہ میں مقامی لوگ شیعہ ملیشیا پر ان عورتوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جسم فروشی میں ملوث تھیں۔
اس علاقے میں شیعہ اور سنی برادریاں اکٹھی رہتی ہیں۔
زیونہ میں مئی سنہ 2013 میں ایک قحبہ خانے پر حملے میں سات خواتین اور پانچ مردوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔
عراق میں اسلامی مذہب کے مطابق جسم فروشی منع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراق میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج سے ایک بہت بڑا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور کئی شہروں کے لیے ان کی جنگ جاری ہے۔
دریں اثنا وزیرِ اعظم نوری المالکی کی طرف سے کردوں پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام کے بعد کرد وزرا نے حکومت کے ساتھ تعاؤن معطل کی ہے۔
عراق میں موجودہ کشیدگی نے فرقہ وارانہ شکل اختیار کی ہے جس میں کرد، شیعہ اور سنیوں کے درمیان تنازعات سامنے آئے ہیں۔







