کرکوک کلب، محض ٹیم نہیں

ایسا لگتا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ سیزن کے دوران کلب نہ عراقی اور نہ کرد لیگ میں کھیل سکے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایسا لگتا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ سیزن کے دوران کلب نہ عراقی اور نہ کرد لیگ میں کھیل سکے گا
    • مصنف, ہنا لیوسینڈا سمتھ
    • عہدہ, کرکوک

عراق کے شہر کرکوک میں واقع فٹبال کلب کر’کوک ایف سی‘ کو آج کل شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کیا اس کلب کو بچانے کے لیے فنڈز مہیا ہو سکیں گے؟

اس کلب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کلب نسلی ہم آہنگی کا ایک شاہکار ہے۔

کرکوک شہر پر عراقی کردوں کا کنٹرول ہے۔

رام یار احمد کے مسکراتے چہرے اور بالوں کے سٹائلش انداز سے لگتا ہے کہ وہ فٹبال ٹیم کے ایک روایتی کپتان کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن ہم ایک مہنگے ریستوران یا فوٹو گرافر صحافیوں کی زد میں رہنے والے علاقے میں ملاقات نہیں کر رہے ہیں۔ احمد کوگذشتہ نومبر سے معاوضہ نہیں ملا ہے، اس لیے ہم کباب کی ایک دکان میں دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے آئے ہیں۔

جب نوجوان بیرے ان کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے تو رام یار احمد نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو ایک بہترین جگہ پر لایا ہوں۔۔۔یہ جگہ بم دھماکوں کے لیے مشہور ہے۔‘

احمد کا کلب کرکوک ایف سی اچھے وقتوں میں قائم کیا گیا تھا اور اس پر برے دن بھی آئے۔

کلب کے دفتروں کی دیواروں پر دہائیوں پرانی تصاویر آویزاں ہیں اور گرد آلود الماری میں کلب کے چاندی کے تمغے اور انعامات پڑے ہیں جو کلب نے جیتے تھے۔

اس کلب کے میدان یا گراؤنڈ پر باقی عراق کی تمام ٹیمیں رشک کرتی تھیں۔

گراؤنڈ میں شاندار پرانا سٹینڈ ایسا لگتا ہے کہ اسے انگلینڈ سے اٹھا کر یہاں لگایا گیا ہو۔ اسےگوروں نے سنہ 1940 کی دہائی میں کرکٹ کے پویلین کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ جب اسے فٹبال کے ٹیرس میں تبدیل کیا گیا تو کرکوک کے لوگوں نے اس کی خزانہ سمجھ کر حفاظت کی۔

کرکوک ایف سی کے فائنینس افسر سروان نجیم نے مجھے میدان دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلے دن کی طرح ہے۔ کسی بھی چیز کی مرمت نہیں کی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دوسرے کلب یہاں کھیلنا چاہتے تھے۔ عراق میں یہ ایک منفرد کلب ہے۔‘

لیکن آج اس کا میدان ہموار نہیں ہے اور اس کی گھاس زرد ہو چکی ہے، کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے خالی پڑے ہیں جبکہ پورے کلب پر عرصے سے خالی ہونے کی اداسی چھائی ہوئی ہے۔

نجیم نے چلاتے ہوئے کہا کہ ’سنہ 2007 میں ہم پر چوہوں نے حملہ کیا تھا۔ ہمارا گول کیپر بال کو کِک لگا رہا تھا کہ اسے میدان میں ایک سوراخ سے چھوہا سر نکالے نظر آیا۔‘

کلب میں شہر کے تمام برادریوں، عرب، کرد اور ترکمن سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں اور کھیل کے میدان میں وہ ایک ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنکلب میں شہر کے تمام برادریوں، عرب، کرد اور ترکمن سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں اور کھیل کے میدان میں وہ ایک ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں

کرکوک شہر گذشتہ نو سالوں سے دو اطراف کے درمیان کشیدگی کا شکار ہے۔ اربیل میں کردستان کی علاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ شہر ان کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ شہر تاریخی اعتبار سے عراقی کردوں کا دارالحکومت رہا ہے۔

بغداد میں عراقی حکومت کردوں کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتی اور اس نے اس شہر کو چھوڑنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ کرکوک میں تیل کے ذخائر کی وجہ سے دونوں فریق اسے چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔

اگرچہ بغداد اور اربیل دونوں کرکوک پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن کوئی بھی اس شہر کے فٹبال کلب کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔

چونکہ کرکوک کردستان کی علاقائی حکومت کا حصہ نہیں ہے اس لیے اسے وہاں سے فنڈز نہیں مل سکتے۔ شاید کرکوک فٹبال کلب کے زیادہ تر کھلاڑی کرد ہیں، اس لیے اسے بغداد سے بھی رقم نہیں مل سکتی۔

کرکوک ایف سی سیاست سے دور رہتا ہے۔ کلب کے کھلاڑی عراقی اور کرد دونوں قومی لیگز میں کھیلتے ہیں۔

کلب میں شہر کی تمام برادریوں، عرب، کرد اور ترکمن سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں اور کھیل کے میدان میں وہ ایک ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں۔

لیکن جب گذشتہ سیزن شروع ہوا تو کلب کے پاس فنڈز ختم ہو گئے۔

کرکوک ایف اسی کے کھلاڑیوں کو شروع ہی سے کم معاوضہ دیا جاتا تھا۔ احمد کو ماہانہ 350 امریکی ڈالر تنخواہ ملتی تھی لیکن پھر اچانک ان کو بتا دیا گیا کہ وہ کلب کے لیے مفت کھیلیں گے۔

احمد کہتے ہیں کہ ’میں نے کھلاڑیوں کو وضاحت کی کہ کھیل ضروری ہے پیسہ نہیں لیکن کھلاڑیوں کو تو پہلے ہی اتنا ملتا تھا جن سے ان کا بمشکل گزر بسر ہو رہا تھا اور جب وہ بھی بند ہو گیا تو ان کے حوصلے پست ہو گئے۔‘

کردش لیگ میں کرکوک ایف سی کی پول پوزیشن تھی لیکن جب کھلاڑیوں کو پتہ چلا کہ کلب کے پاس انھیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہے تو کلب پانچویں پوزیشن پر آ گیا۔

اب ایسا لگتا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ سیزن کے دوران کلب نہ تو عراقی لیگ اور نہ ہی کرد لیگ میں کھیل سکے گا۔لیکن یہ بھی سوال ہے کہ فٹبال کے آئندہ سیزین کا پہلا میچ شروع ہونے تک عراق باقی بچے گا بھی یا نہیں۔

گذشتہ مہینے عراق کی قومی فوج کی ناکامی کے بعد کردستان کی علاقائی حکومت کی فوورسز، پیشمیرگا نے کرکوک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ مہینے عراق کی قومی فوج کی ناکامی کے بعد کردستان کی علاقائی حکومت کی فوورسز، پیشمیرگا نے کرکوک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے

کرکوک ایف سی کے مستقبل کا انحصار عراق میں جاری کشیدگی کے نتیجے پر ہے اور شاید جو نتیجہ سامنے آئے اس سے کلب کو مدد مل سکے اور یہ بچ جائے۔

گذشتہ مہینے عراق کی قومی فوج کی ناکامی کے بعد کردستان کی علاقائی حکومت کی فورسز، پیشمیرگا نے کرکوک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

کرکوک شہر غیر تسلیم شدہ کردستان ریاست کا حصہ بن گیا ہے اور بغداد میں حکومت کی ناکامی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر لمبے عرصے تک کردوں کے ہاتھوں میں رہے گا۔

احمد امید رکھتے ہیں کہ کرکوک کردوں کے کنٹرول میں رہےگا کیونکہ انھیں یقین ہے کہ اگر ان کے کلب کو اربیل سے فنڈز ملے تو اسے بچایا سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عراقی رہنماؤں کو اس کلب کو مثال بنا کر اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ ایک پرامن عراق کیسا ہونا چاہیے۔

احمد کہتے ہیں کہ ’یہ ایک حقیقت ہے کہ کرکوک ایف ایک خاص کلب ہے۔ جب ایک کھلاڑی گول کرتا ہے تو کھلاڑی خوشی مناتے ہیں چاہے گول کرنے والے کھلاڑی کی نسل اور مذہب جو بھی ہو۔مجھے امید ہے ایک دن ہمارے سیاستدان ہمارے فٹبال کے کھلاڑیوں کا رویہ اپنا لیں گے۔ جب انھوں نے ایسا کیا تو عراق ایک بہترین ملک بن جائے گا۔‘