ترکی سے کرد باغیوں کی واپسی شروع

ترکی کے ساتھ برسر پیکار کرد باغیوں کے ذرائع نے بتایا ہے ان کے جنگجو جنگ بندی کے نتیجے میں جنوب مشرقی ترکی کو چھوڑ کر محفوظ ٹھکانوں کے لیے عراق کا رخ کر رہے ہیں۔
ترکی اور کرد باغیوں کے درمیان امن معاہدے میں شامل کرد حامی رہنما صلاح الدین دیمرتاس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہمیں علم ہے کہ انھوں نے رخت سفر باندھ لیا ہے۔‘
کرد ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے گزشتہ مہینے اعلان کیا تھا کہ وہ مئی کے اوائل سے بتدریج واپسی کا عمل شروع کر دیں گے۔
واضح رہے کہ ترکی کے ساتھ جاری اس 30 سالہ جنگ میں 40،000 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔
صلاح الدین دیمرتاس کے ساتھ پیس اور ڈیموکریٹک پارٹی (بی ڈی پی) کی مشترکہ رہنما گلتان کسینک نے اے پی کو بتایا کرد جنگجوؤں کے گروپ نے شمالی عراقی سرحد کی جانب جانا شروع کر دیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پی کے کے کے قریب 2000 جنگجو ترکی میں ہیں اور وہاں سے ان کے مکمل انخلاء میں چار ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یہ کرد باغی جنگجو پا پیادہ سرحد پار کر کے عراق کے پہاڑوں میں موجود اپنے ٹھکانوں میں جائیں گے۔

ترکی کی جیل میں قید پی کے کے کے بڑے رہنما عبداللہ اوجلان نے انقرہ کے امن معاہدے کے تحت انہیں مارچ میں واپسی کا حکم دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے پی پی کے مطابق منگل کے روز پی کے کے کے جنگجوؤں نے شکایت کی ہے کہ ترکی حکومت نے سرحدی علاقوں میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کردیاہے اور طیاروں سے ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ’امن معاہدے میں تاخیر ہو رہی ہے‘ اور اس سے ’مشتعل کرنے اور تصادم کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے‘۔
ترکی کی فوج نے کسی قسم کے اضافی اقدامات کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ جاری ہے۔‘
پی کے کے کے کارگزار رہنما مراد کرائیلان نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ اگر انہیں روکا گیا تو ان کے جنگجو جوابی حملہ کریں گے اور ان کا انخلاء فوری طور پر رک جائے گا۔
صلاح الدین دیمرتاس نے کہا کہ ’ہمیں حکومت پر کوئی شبہ نہیں ہے لیکن انجانی قوتیں اشتعال کا سبب بن سکتی ہیں۔‘
واضح رہے کہ 1999 کی واپسی کے دوران ترکی فوج نے باغیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں تقریبا 500 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







