عراق: کیمیائی ہتھیاروں کی فیکٹری پر قبضے کی تصدیق

عراقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ سنی عسکریت پسندوں نے بغداد کے قریب کیمیائی ہتھیار بنانے والی ایک سابق فیکٹری پر قبضہ کر لیا ہے۔
سنی باغی ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں پیش قدمی کررہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو لکھے گئے ایک خط میں عراق نے تسلیم کیا ہے کہ المثنٰی کمپلیکس جہاں سابق عراقی صدر صدام حسین کے دور میں اعصاب کو متاثر کرنے والے کیمیائی ہتھیار بنائے جاتے تھے اس پر ماہِ جون میں سنی باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔
امریکہ نے تین ہفتے قبل کہہ دیا تھا کے داعش کے عسکریت پسندوں نے کیمیائی ہتھیاروں کی فیکٹری پر قبضہ کر لیا ہے تاہم اس کا کہنا تھا کہ وہ شاید کیمیائی ہتھیار نہ بنا سکیں۔
گذشتہ کچھ عرصے کے دوران داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج سے ایک بہت بڑا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور کئی شہروں کے لیے جنگ جاری ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری ’تشدد اور انتہا پسندی‘ میں جون میں 2417 عراقی مارے گئے ہیں، اس میں سے 1531 عام شہری ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت عراق میں فوجی ایکشن سمیت ’تمام آپشنز‘ پر غور کر رہی ہے۔ انھوں نے کہہ رکھا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں عراقی حکومت کی مدد کی جائے گی۔
کہا جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو شام کے بڑے حصے اور مغربی و وسطی عراق پر کنٹرول حاصل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چند دن قبل عراق میں شدت پسند گروپ دولت اسلامی عراق و شام (داعش یا آئی ایس آئی ایس) کے رہنما ابوبکر البغدادی نے ایک ویڈیو پیغام میں مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ ان کی اطاعت کریں۔
بغدادی کو ان کے گروپ کی طرف سے عراق اور شام کے کچھ علاقوں میں’خلیفہ‘ نامزد کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو شمالی عراق کے شہر موصل کی النوری مسجد میں جمعے کے خطبےکے دوران فلمائی گئی تھی۔







